Skip to content

A Victory for the Secular Taliban

logo
1100997661 1

Click here to read full text of the news report from BBC.

France’s lower house of parliament has overwhelmingly approved a bill that would ban wearing the Islamic full veil in public.

There were 335 votes for the bill and only one against in the 557-seat National Assembly.

The niqab and burka are widely seen in France as threats to women’s rights and the secular nature of the state.

“Democracy thrives when it is open-faced,” Ms Alliot-Marie told the National Assembly when she presented the bill last week.

She stressed the bill, which makes no reference to Islam or veils, was not aimed at “stigmatising or singling out a religion”.

Berengere
Poletti, an MP from Mr Sarkozy’s centre-right UMP party, said women in
full veils wore “a sign of alienation on their faces” and had to be
“liberated”.

Andre Gerin of the Communist opposition compared the veil to “a walking coffin, a muzzle”.

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب جمہوریت کو مستحکم کرنے کے نام پر کیا جا رہا ہے جو کہ خود اکثر برائیوں کی جڑ ہے۔ آج کل جمہوریت کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت موجودہ دور کے اوثان میں سے ایک وثن ہے۔

اب بھی وقت ہے روشن خیالو!! سنبھل جاؤ اور لوٹ آؤ اپنی تہذیب اور معاشرے کی طرف۔

3 thoughts on “A Victory for the Secular Taliban”

  1. یہ سیکولر طالبان والی بھپتی آپ نے بالکل صحیح لگائی ہے!

    ویسے فرانسیسی اور یورپین قوموں‌ کا اصل مسئلہ نسل پرستی ہے۔ جو کسی نہ کسی صورت سامنے آتا رہتا ہے۔

    شمالی امریکہ کے لوگ اور خصوصا اینگلوفوں یعنی انگریز ایک مختلف مزاج کے لوگ ہیں اور اس قسم کے بے ہودہ قوانین کی حمایت سے گریزی ہی کرتے ہیں۔

    آپ کے آخری پیراگراف سے بہرحال پوری طرح اتفاق نہیں۔

  2. ھوں۔۔۔۔۔۔۔۔اگر مجبوری نہ ھوتو مسلمانوں کو ایسی جگہ رہنے کی کیا ضرورت؟
    اگر دین اتنا ہی پیارا ھے تو اپنے دیس واپس آجانا چاھئے۔
    لیکن ایسی بات وہی کہہ سکتا ھے۔جسے دیس ہی میں سب کچھ میسر ھو۔
    جی اپنی تہذیب اور معاشرہ؟

  3. ان کے لیے سزائیں جو زبردستی پردہ کروائیں۔ اور جو زبردستی بے پردہ کریں، ان کے لیے ہر طرح کی حمایت اور سہولیات۔ کیا بات ہے ان کی جمہوریت کی!

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں