Skip to content

ہم سب ایکسٹریمسٹس ہیں۔

ایکسٹریمسٹس کی شکل اور عادات دیکھنی ہوں تو اخبار اٹھائیے۔ کسی بھی عوامی جلسے میں شامل ایک داڑھی والے کی تصویر عین اُس وقت لی گئی ہو گی جب وہ سب سے برا لگ رہا ہوگا اور وہی تصویر منتخب کر کے شائع کر دی گئی ہو گی۔

ظاہر ہے، داڑھی والا ہے تو پھر آس پاس اللہ، جہاد، امریکہ مردہ باد یا پھر اسی قبیل کا کوئی سلوگن بھی نظر آ رہا ہوگا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے، مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں کی اسی “پوز” میں تصویر دیکھی ہے۔ کبھی کسی نے اس وقت کی تصویر نہیں٘ دکھائی ہوگی جب یہی داڑھی والے کسی دھماکے کے نتیجے میں اپنے پیاروں کے جسم کے ٹکڑے ہاتھوں میں اٹھائے غم سے نڈھال نظر آ رہے ہوں گے۔ یا پھر یہ لوگ پر امن  موڈ میں ہوں گے۔
نا ممکن۔
میرا حافظہ ساتھ نہیں دیتا۔ 
بہر حال، ایکسٹریمزم صرف داڑھی والوں کے ساتھ ہی چسپاں نہیں ہے۔ ایکسٹریمزم ہر جگہ موجود ہے۔
جب ایک روشن خیال لیڈر یہ کہتا ہے کہ ہم انتہا پسندوں کو نیست و نابود کر دیں گے تو یہ ایکسٹریمسٹ ایٹیچیوڈ ہے۔ کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
جب ایک روشن خیال نام نہاد دانشور مدرسہ سسٹم پر اپنی تنقید کے پورے توپ خانے سے حملہ آور ہو کر اپنے زعم میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہوتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ اس ملک کا انتظام تو آکسفورڈ سے پڑھے کچھ سیاست دانوں، یا پھر ملٹری اکیڈمی کاکول سے فارغ التحصیل فوجیوں کے ہاتھوں میں اکثر رہا ہے تو وہ در اصل اپنے ایکسٹریمسٹ ایٹی چیوڈ کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے۔
مدرسوں میں اساتذہ کے ہاتھوں بچوں کا جنسی استحصال کوئی انوکھی بات نہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذکر بھی توجہ مانگتا ہے۔
ایکسٹریمسٹس ہر اس پواَئینٹ کو نظر انداز کر دیں گے جس سے ان کا مؤقف کمزور پڑ جاتا ہو۔ آخر مد مقابل کو شکست فاش سے دوچار بھی تو کرنا ہے۔

ایکسٹریمزم سے متعلق یہ باتیں ذہن میں اس وقت آتی ہیں جب میں فیس بک پر پابندی کے ناقدین کو یہ دلیل پیش کرتے ہوئے دیکھتا ہوں کہ ”  آسان طریقہ تو یہ ہے کہ انٹرنیٹ کو ہی بند کردیا جائے
یعنی نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔
انتہائی بچگانہ استدلال۔ مگر کیا کہئے کہ آزاد خیال ہیں۔ علم اور روشن خیالی کے روشن مینار ہیں، ان کی بات نہ سُنی جاَئے تو شائد قیامت آ جائے۔

وکی پیڈیا کی ایک دو سائٹس بلاک ہونے سے پوری مسلمان قوم کے جاہل ہونے کا خطرہ ہے۔
ارے صاحب پہلے اپنی مسلمان قوم کی اتنی خدمت تو کر لو کہ انہیں اپنا نام لکھنا سکھا دو۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا استعمال تو دور کی بات ہے۔

آپس کی بات ہے، ذرا بتائیے ، 17 کروڑ کی آبادی میں انٹرنیٹ تو چھوڑئیے، کمپیوٹر استعمال کرنے والے کتنے ہیں کہ وکی پیڈیا کی چند سائٹس کی بندش سے پوری قوم کے جاہل ہونے کا خطرہ پڑ گیا ہے؟

پہلے ان کو ایک سے سو تک کی گنتی تو سکھائیے، اپنا نام ، دستخط کرنا، ضروری دستاویزات پڑھنا اور لکھنا تو سکھائیے پھر آ کر چند سائٹس کی بندش سے پوری قوم کے جاہل ہونے کا رونا رونا شروع کیجئے۔

9 thoughts on “ہم سب ایکسٹریمسٹس ہیں۔”

  1. بڑا بروقت لکھا
    میں بھی اس موضوع پر قلم اٹھانے کا سوچ ہی رہا تھا لیکن وقت کی کمی آڑے آ رہی تھی ، اور اب تو خیر یہ پوسٹ ہی آ گئی ہے
    😀
    فیس بک جب ہم سب استعمال کرتے تھے تو سب نے کبھی نہ کبھی یہ بات ضرور کہی کہ یہ وقت کا ضیاع اور نئی نسل کی بربادی ہے
    اب جو لوگ یہ دلیل پیش کر رہے ہیں کہ یہ لوگوں‌کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے کہ ان کو اچھا لگے تو استعمال کریں ورنہ چھوڑ دیں
    کوئی یہ بتائے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ بتا کر کہ شراب پینا, چوری کرنا اور پورنو (ڈاؤنلوڈ کر کے 😉 ) دیکھنا غلط بات ہے ان کی صوابدید پر چھوڑ دیں‌کہ پیے یا نہ پیے، دیکھے یا نہ دیکھے؟
    وہ راستہ ہی کیوں‌ نہ بند کر دیا جائے کہ اس کو برائی کرنے یا اس میں پڑنے کا موقع ہی نہ ملے؟
    مجھے پتا ہے کہ ابھی یہاں‌ پر فیس بک اور شراب کا تقابلی جائزہ شروع ہو جائے گا اس لیے لگے ہاتھوں یہ بھی کہتا چلوں کہ ۔ ۔ ۔

  2. ڈفر – DuFFeR: بڑا بروقت لکھا
    میں بھی اس موضوع پر قلم اٹھانے کا سوچ ہی رہا تھا لیکن وقت کی کمی آڑے آ رہی تھی ، اور اب تو خیر یہ پوسٹ ہی آ گئی ہے
    فیس بک جب ہم سب استعمال کرتے تھے تو سب نے کبھی نہ کبھی یہ بات ضرور کہی کہ یہ وقت کا ضیاع اور نئی نسل کی بربادی ہے
    اب جو لوگ یہ دلیل پیش کر رہے ہیں کہ یہ لوگوں‌کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے کہ ان کو اچھا لگے تو استعمال کریں ورنہ چھوڑ دیں
    کوئی یہ بتائے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ بتا کر کہ شراب پینا, چوری کرنا اور پورنو (ڈاؤنلوڈ کر کے ) دیکھنا غلط بات ہے ان کی صوابدید پر چھوڑ دیں‌کہ پیے یا نہ پیے، دیکھے یا نہ دیکھے؟
    وہ راستہ ہی کیوں‌ نہ بند کر دیا جائے کہ اس کو برائی کرنے یا اس میں پڑنے کا موقع ہی نہ ملے؟
    مجھے پتا ہے کہ ابھی یہاں‌ پر فیس بک اور شراب کا تقابلی جائزہ شروع ہو جائے گا اس لیے لگے ہاتھوں یہ بھی کہتا چلوں کہ ۔ ۔ ۔  

    اب کوئی میری باتوں کا یہ مطلب نہ لے کہ میں فیس بک استعمال نہیں کروں گا۔ میرے لیے یہ مسئلہ میری صوابدید پر چھوڑا گیا ہے اور میرے انٹرنیٹ کے پائپ پہ پیر رکھنے والا بھی یہاں کوئی موجود نہیں
    .-= ڈفر – DuFFeR´s last blog ..گرو گھنٹال کے چار گر =-.

  3. تو اس میں بری بات کیا ہے !‌۔۔ اکسٹریمسٹ ہونا چاہیتے ۔۔ میں ہو ۔۔ اکسٹریملم چّول

    پر سر آپ یہ اکسٹریمسٹ کی تشریح کیسے کر رہے ہیں‌ ؟

    میرے خیال میں ایکسٹریمسٹ اور دکیانوسی ریسسزرز میں فرق ہوتا ہے

    ہم سب بہت بری طرح سے ایک بری طرح کی ریس ازم کا بہت عرصے سے شکار ہیں ۔۔ کوئی جٹ اپنی کمپیٹی کا صدر کبھی کسی آرائی کو نا بن نے دے نا برداشت کرے

    یہ بات وہاں پارلمنٹ میں بھی ہو رہی ہے ۔۔ اپنے صدر صاحب سب کچھ کر لینگے ۔۔ اپنی سیٹ اپنے گھر کے کمی کو کبھی نہیں دینگے ۔۔ ہوگا وہ بھی ایک جاہل ہی

    اور پڑھائی پوری نا ہونے کی شرط صدر صاحب نے خود ہی تو ختم کی ہے ۔۔ کیا کہتے ہیں ؟
    .-= ریحان´s last blog ..لکھ لکھ مبارکاں =-.

  4. اغیار کا مطمع نظر بھی یہی ہے کہ گستاخیاں‌اتنی کرو کہ ایک دن یہ لوگ اسے برا کہنا ہی چھوڑ دیں
    کچھ حل بھی بتاؤ یار ، کوسنے تو ہر طرف سے سننے کو مل رہے ہیں
    اس کے خلاف آواز نہ اٹھائیں‌تو کیا کریں چپ کرکے بیٹھ جائیں‌اور جیسا پہلے چل رہا تھا چلنے دیں؟
    متبادل بھی تو ہونا چاہئے
    میں نے نوٹ کیا ہے کہ ہمارے اندر ایسے لوگ ہیں‌جنہوں نے احتجاج میں‌تو حصہ نہیں‌لیا لیکن کچھ سائٹس کی بندش پر بہت سیخ پا ہو رہے ہیں

  5. بے غيرتی کی تکرار سے قوم اپنی غيرت کے معاملہ ميں تو بے حس کر دی گئی ہے البتہ ناموسِ رسول سب محبوب رکھتے ہيں ۔ مسلم دشمن چاہتے ہيں کہ يہ حس بھی جاتی رہے ۔ تُف ہے اُن مسلمانوں پر جو اپنے گھٹيا سے مفاد کو ناموسِ رسول پر ترجيح ديتے يں
    .-= افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..تعليم يافتہ دہشتگرد =-.

  6. “ایکسٹریمسٹس ہر اس پواَئینٹ کو نظر انداز کر دیں گے جس سے ان کا مؤقف کمزور پڑ جاتا ہو۔ آخر مد مقابل کو شکست فاش سے دوچار بھی تو کرنا ہے۔”

    سب سے اہم نکتہ یہی ہے کہ ہم صرف اپنی ذات کے لئے لڑتے ہیں اس لئے صرف اپنے مطلب کی باتیں کرتیں ہیں اور اُس کے مخالف کوئی بھی بات ہو اُسے سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔ ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو ناموسِ رسالت کے خلاف احتجاج میں ہر حد پار کرجانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف وہ ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اس معاملے پر زبان تک نہیں کھولتے بلکہ کسی نہ کسی بہانے سے اسلام کو ہی حدف بنا کر شروع ہوجاتے ہیں اور یہ لوگ بھی ہر حد پار کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔

    ہمیں ہر دو سمت سے معتدل رویّوں کی اشد ضرورت ہے۔
    .-= محمد احمد´s last blog ..میں نے کہا کچھ اور ہے، سوچا کچھ اور تھا =-.

  7. ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جرات اظہار کا یہ انداز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پسند آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس سے آپ کے بعض روشن خیال دوست ناراض ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاہم لگتا ہے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس کی پرواہ نہیں کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نہ ہی کی جانی چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    .-= حکیم خالد´s last blog ..مصر ی علماء نے فیس بک کے خلاف فتویٰ جاری کردیا =-.

  8. بالکل صحیح لکھا ہے ۔۔ افسوس کے ہمیں دوسری قوموں کے مظالم تو نظر آتے ہیں ہر خود اپنی قوم کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اس پر اپنا ضمیر آواز نہیں اٹھاتا ۔۔
    .-= فکر پاکستان´s last blog ..کمی کہاں ہے آخر =-.

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں