Skip to content

پردے کے پیچھے کیا ہے۔

میں تو برادرم ابن سعید کی اس مراسلے پر خوش گفتاری سے پیش کی گئی وضاحت سے مطمئن ہو گیا تھا۔ اور میں سمجھ رہا تھا کہ بات ختم ہو چلی۔ اب چونکہ کرنے کا کوئی کام نہیں تھا لہذا میں نے سوچا اپنے کمپیوٹر کے ساتھ کھلواڑ کروں۔ اپنے براؤزر کے بُک مارکس کی کانٹ چھانٹ کرتے کرتے اور ان کو ترتیب دیتے دیتے میری نظر ایک ربط پر پڑی اور میں نےسوچا کہ اس کو دوبارہ کھولنے میں کوئی حرج نہیں۔

دوبارہ کھولا تو یوں لگا کہ کسی نے چہرے پہ طمانچہ مار ڈالا ہو۔نبیل نقوی نام سے کسی کا ایک تبصرہ محمد علی مکی کی حمایت میں پڑھنے کو ملا۔ خیال آیاشائد یہ اردو محفل والے نبیل نقوی صاحب ہیں اور شائد مجھ سے ابن سعید کی وضاحت پڑھنے میں غلطی ہو گئی ہے، دوبارہ ابن سعید ہی کے تبصرے کا رُخ کیا تو وہ کچھ اس طرح شروع ہو رہا تھا کہ

اردو سیارہ کی انتظامیہ کو محمد علی مکی کے بلاگ میں سیارہ کے قوانین کے تحت کوئی قابل گرفت بات نظر نہیں آئی لہٰذا ان کا بلاگ سیارہ سے ہتانے کی بابت کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس میں کسی قسم کی جانبداری، عیال نوازی یا دوست نوازی کا جذبہ کارفرما نہیں تھا۔ اور نہ ہی کسی کے احسانات کا بار تھا۔ اردو ویب ان آلائشون سے پاک ہے اور اپنے اصولوں پر کھرا اترنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

اور یہاں ایک نبیل نقوی صاحب مکی صاحب کی ایک پوسٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے نظر آئے۔ اور معاملہ ایسا تھا کہ اس میں مکی اور شاذل کے درمیان ہوئی چپقلش میں میں میرے خیال کے مطابق کسی اور نے اب تک نے ٹانگ اڑانے کی کوشش نہ کی تھی۔ شازل نے اس غلط فہمی کی بنیاد پر ہوئی چپقلش کے بارے میں اپنے بلاگ پر لکھا۔ کہ بل گیٹس کے نام سے تبصرہ اس نے نہیں کیا، مگر نبیل نقوی صاحب نے وہی الفاظ کوڈ ورڈ کے طور پر استعمال کر کے شازل کی طرف اشارہ کیا اور اب تک آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ کس ٹون میں یہ تبصرہ کیا گیا۔

اس بات پر میں زرا پریشان ہوا۔ مگر دل کو تسلی دی کہ خیر ہے اگر یہ وہی نبیل نقوی ہیں بھی تو ان دونوں کی آپس کی دوستی ہے، وہ جو چاہیں کریں۔ جو چاہیں کہیں، مجھے کیا۔ خصماں نوں کھاؤ۔
لیکن پھر ایک اور خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس آپس کی دوستی کی وجہ سے کسی کو اس بلاگ پر کوئی قابل اعتراض جملہ نظر نہیں آیا۔

میں نے اپنے آپ کو بار بار تسلی دینے کی کوشش کی مگر دل تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا۔ آخر گوگل کا رُخ کیا۔ کچھ سمجھ نہ آتا تھا کیا کروں۔ مگر پھر مسلسل غلطیوں کے بعد میں گوہر مقصود تک جا پہنچا۔ پتہ چلا یہ دوستی اتنی گہری ہے کہ اردو کوڈر اور اردو محفل کی ہوسٹنگ ایک ہی ہے۔

لو جی مسئلہ ہی حل ہوگیا۔

واقعی مکی صاحب کے بلاگ پر کچھ بھی غلط نہیں تھا۔ واقعی ہم مذہب پرست لوگ فضول مسئلوں میں الجھے ہوئے ہیں اورعوام کے اصل مسائل سے غافل ہیں۔ واقعی ہم سے اب تک ان “عالمانہ مسائل ” کو سمجھنے میں غلطی ہوئی جن میں تو معرفت کے دریا تک بہا دئے گئے تھے۔ یہ تو ان کی اعلی ظرفی ہے کہ انھوں نے خود ہی اپنا بلاگ ہٹانے کی درخواست کردی اور ہمیں شرمندہ ہونے سے بچا لیا۔

اور اگر اس سے پہلے صرف فرد واحد کی درخواست پر ، صاحب بلاگ کو تنبیہ کئے بغیر ہی اس کا بلاگ ہٹا دیا بھی گیا تھا تو وہ معاملہ بھی اردو سیارہ کی غیر جانبداری کی واضح مثال ہے۔

حال آنکہ مذکورہ بلاگ کے مصنف و مالک نے یہ بھی کہا کہ:

خودکلامی صاحب، نےشکایت کی کہ میرےبلاگ پرقوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اگرکسی بھی فرقہ کوجوکہ اپنےآپ کومسلمان ظاہرکرکےمسلمانوں کےایمان سےکھلواڑکررہاہےتویہ واقعی خلاف ورزی ہے۔ اورمیں نےاپنےبلاگ میں نہ صرف تحریریں لکھیں ہیں بلکہ شعیہ حضرات کی کتابوں کوسکین شدہ کاپیاں بھی لگائی ہیں۔ اگریہ باتیں غلط ہوں تواس کوثابت کیاجاناچاہیےاسطرح تواظہاررائےکی آزادی نہیں ہےکیونکہ میں نےبارباریہی لکھاہےکہ میں بس اس بات پریقین رکھتاہوں کہ اگرمیں غلط ہوں توصحیح معلومات فراہم کی جائیں۔ اگرمیری معلومات میں کوئی بھی غلط ہوتواس کےبارےمیں تحقیق کی جائےناں کہ اسکوبلاک کردیاجائے۔ باقی فیصلہ کرناانتظامیہ کاکام ہے۔ اورمجھےیہ بھی علم نہیں تھاکہ میرےبلاگ کوبلاک کردیاگیاہے۔بلکہ یہ بھی سعدبھائی کی بدولت ہی پتہ چلاتھا۔ باقی محفل پربھی بہت بہت بحثیں ہوتیں رہتیں ہیں۔لیکن کسی کوبھی اسطرح بلاک کرنامیری سمجھ سےبالاترہے

لیکن اس سب سے قطع نظر اردو سیارہ کے منتطمین نے اپنی حرکتوں سے ثابت کر ڈالا کہ مکی کے خلاف جتنے بھی لوگ جمع ہوئے ، وہ سب متعصب ، تنگ نظر ، اور طالبان کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو کیا علم کہ آزادئی اظہار کیا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ اپنی غلطی پر اب نادم ہونا ہی پڑے گا۔

پس نوشت: آج صبح دیکھا تو علم ہوا کہ نبیل نے شازل سے مصالحت کی کوئی بات کی ہے، اور جھگڑا ختم کرنے کو کہا ہے۔اچھی بات ہے۔ دیر آید درست آید۔

18 thoughts on “پردے کے پیچھے کیا ہے۔”

  1. وڈے پاء‌ جی میری آخری تحریر پر آپ کا میرے بارے میں تبصرہ بھی شکوہ بھرا تھا کہ میں نے مکی کے خلاف کوئی بات نہیں‌کی جبکہ سارے بلاگرز سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تو بھیا اب بات چل نکلی ہے تو وضاحت دیتا چلوں۔
    مکی سے میری تین چار سال پرانی دوستی ہے، لینکس کی وجہ سے تعلق پروان چڑھا۔ اس کے ترجمہ کرنے اور اوپن سورس کے لیے جنون نے بہت متاثر کیا۔ اس کے بعد جب امانت علی گوہر نے کمپیوٹنگ شروع کیا تو ہم نے اکٹھے اس میں لینکس اور اوپن سورس پر مضامین لکھے۔ پھر مکی ملائیشیا چلا گیا، جہاں‌ اسے خاصے برے معاشی حالات سے گزرنا پڑا۔ اور اب جب کہ دو چار ماہ یا زیادہ سے پاکستان آگیا ہے تو موصوف نے عربی ادب اور قرآن کو ایک ثابت کرنے کی کوشش شروع کی ہوئی ہے، اور متنازعہ قسم کے مضامین لکھ رہا ہے۔
    شروع میں، جیسا کہ میری کچھ تحاریر ان تحاریر کے جواب میں‌لکھی بھی گئیں، میں‌ نے کوشش کی کہ ساتھ ساتھ جواب کا سلسلہ جاری رہے تاکہ منفی مثبت کا توازن برقرار رہے۔ اس کے بعد مصروفیت آڑے آنے لگی، رد لکھنے کے لیے درکار وقت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے میں‌ نے دلچسپی لینا چھوڑ دی۔ تاہم امید یہ تھی کہ مکی یا تو باز آجائے گا یا دوسرے لوگ ہیں‌جو دامے درمے سخنے رد جاری رکھے ہوئے ہیں، کچھ تحاریر میں‌تبصرے کرکے بھی مسلمانوں‌کا موقف وہاں‌رجسٹر کرایا تاکہ مسقتبل کا قاری یہ نہ سمجھے کہ ان اعتراضات کا جواب نہیں‌دیا گیا تھا۔ آخری چند تحاریر 3 یا 4 کہہ لیں، میں نے بالکل بھی نہیں پڑھیں۔ لیکن کل رات قرآن کو عرب شعراء سے متاثرہ اور محمد ﷺ کا ذاتی کلام بتانے کی جو تحریر اس نے لکھی ہے وہ پڑھی تو یقین کریں انا للہ و انا الیہ راجعون ہی منہ سے نکلا۔ اتفاق سے کل ہی ایک کام کے سلسلے میں رابطہ بھی کرنا پڑا تھا مکی سے لیکن حسن اتفاق کہ خود ہی کر لیا اور اسے زحمت نہ دینی پڑی۔لیکن اس دوران چیٹ میں میں نے اپنے ناپسندیدگی کا اظہار کردیا تھا۔ اور یہاں بھی یہی کہتا ہوں کہ انا للہ و انا الیہ راجعون میں نے ایک دوست کے وفات پاجانے، اور اسلام سے دور ہوجانے پر پڑھا ہے۔ دعا ہے مکی جلد ہم میں آملے، اس کے اندر جو جستجو کی آگ جل رہی ہے اسے ہدایت کی طرف لے آئے پھ سےر۔ تاہم تب تک میں اس کی طرف سے براءت کا اظہار کرتا ہوں۔ مکی اچھا انسان ہوگا، لیکن اچھا مسلمان نہیں رہا، شاید سرے سے مسلمان ہی نہیں رہا۔ مجھے صرف اس بات کا قلق ہے کہ میرے وسائل میں یہ نہیں کہ اس کے اعتراضات کا شافی جواب لکھ سکوں، میرا علم، وسائل اور وقت اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔ برائی روکنے کے تین درجے ہیں، ہاتھ سے، زبان سے روکنا اور پھر دل میں برا کہنا۔ میں نہ تو ہاتھ سے روک سکتا ہوں، نہ زبان سے اس کے خلاف دلائل دے سکتا، اسے برا کہہ سکتا ہوں چناچہ صرف برا کہہ رہا ہوں۔ کاش مجھے یہ توفیق ہوتی کہ قرآنی عربی جانتا، اور مکی کے ان بے بنیاد اعتراضات جن میں وہ قرآن کو عربی ادب جیسی کوئی ذاتی تخلیق قرار دینے کی کوشش کرتا ہے کو رد کرسکتا۔ یہ ایمان کے آخری درجے پر کھڑے ایک مسلمان کی خواہش ہے۔
    وسلام

  2. مان گئے جناب کی خوردبینی کو۔۔۔جزاک اللہ خیر۔
    آپ نے اپنی بات نہایت احسن طریقہ سے قارئین تک پہنچادی ہے ۔
    مسئلہ یہ ہے کہ حل کیا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ منطقی حل جو میرے ذہن میں ہے وہی آپکے اور دوسروں کے اذہان میں بھی ہوگا۔۔۔۔
    کیا اس حل پر بات کی جائے؟

    1. جناب آپ کس حل کی بات کر رہے ہیں؟
      قران کے انکار کے حل کی بات؟
      انبیا کی توہین کے مسئلے کے حل کی بات؟
      یا خدا کے وجود کے اثبات کے مسئلے کے حل کی بات کر رہے ہیں۔

      اگر تو آپ کا اشارہ اردو سیارہ والوں کی نالائقی کی طرف ہے تو میں اقربا پروری کے اور بھی ثبوت دے سکتا ہوں مگر چھوڑئے، گندگی پھیلے گی۔

      مٹی پاؤ۔

  3. ڈاکٹر صاحب جب اآپ انصاف اور قانون کا رونا رو رہے تھے تو مین نے بھی ایک رونا رویا تھا پر میری کُوکوں کو کوٕی اہمیت نی دی تھی اآپ نے۔ اور ایک اور تبصرہ نگار نے بھی کچھ پیشن گوئی کی تھی جسکو سیریس نہیں لیا گیا

    1. ایمان کا سیکنڈ لاست درجہ رونا ہی سمجھ لیجئے۔

      اور آپ کے ولی ہونے میں کسی کو شک نہیں۔ جس کو شک ہے ، شائد وہ ٹھیک سوچتا ہو۔

  4. السلام علیکم،
    بہتر ہوتا کہ مکی کا بلاگ سیارہ سے ہٹائے جانے کے بعد یہ معاملہ ختم ہو جاتا۔ لیکن یہ سلسلہ طویل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ شازل کو تو میں نے خیر سگالی کا پیغام دے دیا ہے۔ یہاں جو لوگ منطقی حل تجویز کر رہے ہیں اور جو اپنی پیشن گوئیوں کا فخریہ ذکر کر رہے ہیں، ان سے بھی عرض ہے کہ میری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے۔
    والسلام

  5. اور ایک بات اور۔
    مکی کا بلاگ سیارہ سے اُس نے خود درخواست کر کے ہٹوایا ہے۔ یہ بات آپ جانتے ہیں۔ اردو سیارہ کو اب بھی اس کی کسی پوسٹ میں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آ رہی ہوگی۔

    آزادئ ء اظہار زندہ باد۔
    والسلام۔

  6. يہاں بہت سنجيدہ گفتگو ہو رہی ہے اور مجھ پر اس وقت مزاح سوار ہے جس کی وجہ آپ کا موضوع ہے
    بہت پرانی بات ہے جب شاديوں پر ناچ گانا نہيں ہوا کرتا تھا اور بھانڈ آتے اور اپنے مزاح سے سب کو ہنساتے تھے ۔ سُنيئے
    “فلاں جگہ قوال آئے”
    “پھر ؟”
    “وہ گا رہے تھے ۔ يہ پردے کے پيچھے کيا ہو رہا ۔ يہ پردے کے پيچھے کيا ہورہا ہے”
    “يہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے ؟’
    “ارے ۔ سُن تو سہی’
    “ہاں ؟’
    ” قوال کہتا جا رہا تھا ۔يہ پردے کے پيچھے کيا ہو رہا ۔ يہ پردے کے پيچھے کيا ہورہا ہے ۔ تو پردے کے پيچھے سے آواز آئی ” مُوئے ۔ تيری اماں بيٹھی چھاليہ کاٹ رہی ہے”

  7. منیر، مجھے کوئی شوق نہیں ہے اس طرح کے معاملات میں کودنے کا۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ میری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے۔ اردو سیارہ محض فیڈ ایگریگیٹر ہے۔ اس پر محض اقتباسات ظاہر ہوتے ہیں جنہیں آپ اپنی مرضی سے پڑھ سکتے ہیں یا نظر انداز کر سکتے ہیں۔ کوئی بلاگر اردو سیارہ کے کہنے پر نہیں لکھتا ہے اور نہ ہی اس کا کونٹینٹ اردو سیارہ پر کسی ڈیٹابیس میں سٹور ہوتا ہے۔ آپ نے اپنی رائے ہم تک پہنچا دی تھی اور ابن سعید نے کوشش بھی تھی کہ اس کے بارے میں وضاحت کر سکیں۔ ہمارا ایک رائے پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے اور غلطیاں ہم سے بھی ممکن ہیں لیکن اگر آپ ہم پر بددیانتی ، نالائقئی اور جانبداری کے الزامات لگانے وقت کچھ احتیاط سے کام لے لیں تو شاید آپ کا مجھ پر بہتر تاثر قائم ہو سکتا ہے۔
    والسلام

  8. میں نے اوپر ربط دئے ہیں۔ ہر بات کا ربط دیا ہے۔ میں نے کوئی بات الزامی نہیں کی۔ میں نے سب کچھ قارئین کے سامنے رکھنے کے بعد فیصلہ ان پر چھوڑ دیا ہے۔ ماضی بعید میں اردو سیارہ کی ماڈریشن کا ایک نمونہ بھی دیا ہے جس میں “فوری انصاف” کے تحت کارروائی کر کے مدعی کو انصاف فراہم کیا گیا اور ملزم کو صفائی کا موقع نہ دیا گیا۔ اور الٹا جان چھڑانے کے لئے دھاگے کو ہی مقفل کر دیا گیا۔

    جب ہم نے آواز بلند کی تو اب سب کو آزادئ ءاظہار خطرے میں نظر آ رہی ہے۔ انکل ٹام کے بلاگ پر ابن سعید کی وضاحتیں ان کی خوش گفتاری کے سبب بھلی معلوم ہوتی ہیں، مگر جب مندرجہ بالا روابط کو دیکھا جائے تو سمجھ نہیں آتا، غیر جانبداری کے بھاشنوں پہ یقین کیا جائے یا ان روابط کو نظر کا دھوکا نہ قرار دیا جائے۔ ویسے بھی عقل زیادہ اہم ہوتی ہے۔ عقل کہتی کہ مندرجہ بالا ثبوتوں کی روشنی میں غیر جانبداری کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔

    چونکہ مذ ہب ذاتی زندگی کا جزو ہے اور آپ مذہبی نقطہ نظر سے کی گئی بات کو نظر انداز کریں گے (احتمالا نہیں کہا، ثبوت ہے ہمارے پاس ( تو عقلا یہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ اب کسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں رکھ سکتے۔

  9. منیر، میں اپنی صفائی پیش کرنے نہیں آیا تھا، محض یہی کہنا تھا کہ میری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے۔ لیکن آپ کا لب و لہجہ دیکھ کر مجھے مایوسی ہوئی ہے۔
    فی امان اللہ

  10. نبیل صاحب
    اگر آپ غور کریں تو منیر نے ایسے ثبوت پیش کیے ہیں جنہیں‌ در کرنا بہت مشکل ہے۔ ابن سعید نے اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن منیر نے اپنی پوسٹ میں ثابت کردیا ہے کہ انہوں نے اس معاملے میں جانبداری سے کام لیا ہے۔ بلکہ یہ کہہ کر انہوں نے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے کہ انہیں‌کوئی قابل اعتراض بات نہیں دکھائی دی۔
    ٹھیک ہے کہ مکی کے کہنے پر اسے ہٹادیا گیا ہے لیکن آپ لوگوں‌کی پالیسی اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اسے ریویو کی ضرورت ہے۔ کچھ اعترافات کی ضرورت ہے۔
    ذاتی لڑائی تو کوئی بھی نہیں‌لڑرہا لیکن ذاتیات بالکل ہورہی ہے۔

  11. کل ہماری ریسرچ میٹنگ ہے جس کے لئے کافی کچھ کام کرنا باقی ہے۔ لہٰذا کوئی تفصیلی پوسٹ لکھ پانا ہمارے لئے بہت مشکل امر تھا۔ لیکن ہم نے سب کچھ پس پشت ڈال کر اردو ویب بلاگ پر ایک عدد مراسلہ احباب کی نذر کیا ہے جس میں بعج باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کچھ باتیں اب بھی تشنہ ہوں گی پر وقت فی الحال اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دے رہا۔ امید ہے کہ احباب وسعت قلبی سے مراسلے کو ملاحظہ فرمائیں گے۔

    http://www.urduweb.org/blog/2011/06/253/

    1. وہی خوش کلامی جو آپ کی شخصیت کا خاصہ ہے مگر جو مسائل کاحل نہیں تجویز کرتی۔

      آپ نے اپنے ہر عمل کو اب بھی تھیک ہی کہنا ہے تو شوق سے۔
      Even there is a limit to denial.

      والسلام

  12. میں تو جی پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ یہ دوغلہ پن ہے ، اور اسکا علاج بھی لکھ دیا تھا ۔ آپ لوگ ابھی تک خوش الفاظی ، تاویلات ، لفاظی کے چکر میں پڑے ہوے ہیں ۔

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں