Skip to content

نئے اور پرانے کا مقابلہ

گزشتہ برس میری بڑی ہمشیرہ گھر آئی ہوئی تھیں۔ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا اور میرا بھانجا میری طرح ھی کرکٹ کا شوقین تھا۔ اب بالکل یاد نہیں کہ کونسا میچ تھا، مگر ہم کسی سٹریمنگ ویب سائٹ پر پاکستان کا میچ دیکھ رہے تھے۔

اس وقت میرے پاس کیتھوڈ رے ٹیوب والا بڑا مانیٹر تھا۔ ابھی میچ سنسنی خیز لمحات میں داخل ہوا ہی تھا کہ مانیٹر میں چھوٹا سا دھماکہ ہوا اور کچھ شعلے اٹھے۔ نقصان بہر حال زیادہ نہ ہوا۔

اب مسئلہ میچ کا تھا۔ کیا کیا جائے۔ بھانجے نے کہا “ماموں نیا مانیٹر لیں، ایل سی ڈی والا ، سلم بھی ہے اور اچھا بھی لگتا ہے، آپ بھی باوا آدم کے زمانے کے کمپیوٹر کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں”۔

بھانجے کی بات دل کو لگی۔ اور بہت زور سے لگی۔ چنانچہ اسی وقت اس کو لے کر کمپیوٹر مارکیٹ نکل پڑا۔ مجھے یہ یاد ہے کہ اس وقت بارش اچھی خاصی تھی۔ دُکان پہنچے جہاں دکاندار کے ساتھ میری کچھ دعا سلام تھی، اس نے میرا مسئلہ سُنا اور پہلے تو پیش کش کی کہ میں اُدھر اس کے پاس ہی میچ دیکھ لوں۔ مگر مسئلہ تو مانیٹر کے نہ ہونے کا تھا، میچ کا نہیں۔ چنانچہ بھانجے کے سامنے اپ ٹو ڈیٹ رہنے کے چکر میں ایک عدد ایل سی ڈی مانیٹر خرید لیا۔

ٹیکنالوجی اپنی جدت کی لگن میں کچھ اس رفتار سے بگٹٹ دوڑی جارہی ہے کہ اس کے ساتھ رہنا ہے تو شاہ خرچی کرنی ہوگی۔ نہیں کر سکتے تو اپنے لئے بیک ورڈ کا لفظ استعمال ہوتے دیکھ کر حیران مت ہوئیے گا۔

گزشتہ دنوں ایپل کی مصنوعات کے بارے میں ایک تصویر دیکھ کر حیران ہوا، کہ سن 2000 میں ایپل جو ایک ڈیسکٹاپ بنا کر فروخت کرتا تھا، آج کا آئی فون اس سے قیمت میں نصف اور باقی سپیکس میں تین سے چار گنا زیادہ ہے۔

تو میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ایل سی ڈی مانیٹر لے اپنے آپ کو “اپ ٹو ڈیٹ ” تصور کیا اور گھر پہنچا۔

کچھ عرصہ استعمال کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ گو یہ چیز پچھلے مانیٹر کی نسبت کم جگہ گھیرتی ہے، مگر اتنی بھی اچھی نہیں ہے۔اس کے ساتھ بجلی کی کھپت کم ہوئی۔ اس کے آن کرتے وقت ایک “ٹَن ” کی سی آواز نہیں آتی اور کمرے کی روشنی اسی طرح رہتی ہے جیسے پہلے تھی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ میں نے دیکھا کہ اس میں وڈیوز دیکھنے کا مزہ نہیں ہے۔

سی آر ٹی مانیٹر پہ کسی بھی وڈیو کا جو معیار ہوتا ہے وہ اس ایل سی دی مانیٹر پہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ حال آنکہ ایچ پی کا نیا مانیٹر تھا، مگر وڈیوز کے معاملے میں دوسرے یعنی سی آر ٹی مانیٹر سے مار کھا گیا۔ خصوصا مکمل سکرین پر سٹریمنگ میچ اب بے کار لگنے لگے اور میرا خیال ہے پاکستان کرکٹ سے میری بے زاری کی چند وجوہات میں شائد یہ نیا مانیٹر بھی ہے۔اب چونکہ مجھے اپ ٹو ڈیٹ رہنا بھی ہے لہذا اس کو برداشت کر رہا ہوں اور اگر میچ دیکھنااشد ضروری ہو تو یا تو سی آر ٹی والے ٹی وی پر دیکھ لیتا ہوں یا کسی دوست کے پاس جو ابھی بھی “اولڈ فیشنڈ” ڈیسکٹاپ مانیٹر کے ساتھ “گزارہ ” کر رہا ہے۔

اسی طرح کے کئی دوسرے تجربوں کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ ضروری نہیں ہر نئی چیز بہت اچھی ہو۔ اور اگر وہ اچھی نہیں تو اس کے ساتھ خوا مخوا دوسروں کے ڈر سے یا اپنے سیلف امیج کی خاطر چمٹے رہنے سے اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔

9 thoughts on “نئے اور پرانے کا مقابلہ”

  1. سو فیصد متفق
    اور مجھے یہ سوچ رکھنے کیلیے کسی تجربے سے گزرنا بھی نہیں‌ پڑا
    بجلی سے یاد اآیا کہ ہم نے ایک دفعہ یو پی ایس پہ سٹار پلس چلانے کیلیے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہمارا اولڈ از گولڈ اکیس انچ سونی ابھی نوے واٹ کھاتا ہے اور بتیس انچ ایل سی ڈی ایک سو ستر واٹ
    مانیٹر شانیٹر کا حساب بھی شائد یہی ہو

  2. منیر بھائی آپ تو ڈرا رہے ہیں جناب۔ ۔ ۔

    میں نے تو ابھی ایل سی ڈی مانیٹر خریدنے کا ارادہ ہی کیا ہے۔
    یعنی اب چیک کرنا پڑے گا پہلے دونوں کا رزلٹ۔

  3. جی فارس: آپ جو بھی فیصلہ کریں سوچ سمجھ کر کریں اور اس سے پہلے اس بات پر ضرور غور کریں کہ کیا ایل سی ڈی مانیٹر لینا بہت ضروری ہے؟

    اگر تو آپ میری طرح کی صورت حال میں ہیں تو پھر اور بات ، ورنہ دونوں اقسام کے فوائد اور نقصانات کو دیکھ لیں۔ پھر فیصلہ کریں۔

  4. یار میرے پاس وہ بڑا والا مانیٹر ہے لیکن اس سے انکھیں تھک جاتی ہیں،اور سنا ہے خراب بھی ہوتی ہیں۔ سنا ہے ایل سی ڈی مانیٹر سے انکھیں نہیں تھکتی،نا ہی خراب ہوتی ہیں۔ میں نے تو ایل سی ڈی کرسٹل مانیٹر خریدنے کا ارادہ کیا ہے ۔اب کیا کروں ۔

    آپ نے تو تشویش میں ڈال دیا ہے مجھ کو۔

    میں صرف اسی لئے اسکو تبدیل کرنا چاہتا تھا کہ ایل سی ڈی کرسٹل مانیٹر سے انکھیں خراب نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. ہر نئی ایجاد میکر کمپنی کیلئے مال بنانا اور یوزر کو بے وقوف بنانا ہوتا ہے۔
    نئی نئی اشیإ خریدنے کے بعد یہی محسوس کیا کہ پرانی تو اچھی تھیں۔
    واشنگ مشین ہی لے لیں ہماری گھر والی کہتی ہے۔آج سے دس سال پہلے والی واشنگ مشین بہتر تھی اس وقت والی مہنگی ہے اور بجلی بھی زیادہ کھاتی ہے۔دھونے ،سکھانے ، اور سلوٹیں نکانے میں یہ مشین وقت اور انرجی ضائع کرتی ہے۔

  6. بڑی عجیب بات ہے کہ آپ کو ایل سی ڈی نہیں بھایا۔ ہوسکتا ہے اس کا کنٹراسٹ ریشو کم ہو اور زاویہ مناسب نا ہو۔ چار سے پانچ گھنٹے اگر اسکرین کے سامنے ہیں تو پھر ایل سی ڈی بہت ہی ضروری ہے ورنہ سی آر ٹی تو تباہ کردیتی ہے 🙂 اب تو بڑے عمدہ ایل ای ٹی دستیاب ہیں جو ایچ ڈی اور ایک کے مقابلے ایک لاکھ سے پانچ لاکھ تک کنٹراسٹ ریشو فراہم کرتے ہیں۔ سی آر ٹی — نو وے۔۔ میں آپ کے بھانجے کے ساتھ ہوں۔

  7. میرا خیال ہے کہ آپکے دکاندار دوست نے آپ کو ایل سی ڈی خریدتے وقت درست مشورہ نہیں دیا۔ کوئی پرانی ٹیکنالوجی کی بے کار سے ایل سی ڈی دے دی ہے۔ ورنہ ایل سی ڈی یقینن مانیٹر سے کئی طرح سے بہتر ہے۔ دوسرا نقطہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا مانیٹر قدرے بہتر ٹیکنالوجی کا تھا۔ مطلب کلاس اے کا۔ اب اگر آپ کے پاس کلاس بی کی ایل سی ڈی ہے تو ظاہر ہے وہ کلاس اے کے مانییٹر کا رزلٹ تو نہیں دے سکی
    آپ کلاس اے کی ایل سی ڈی لائیے پھر اس کے اپنے پرانے مانیٹر سے تقابل کیجیے ۔ یقینن ایل سی ڈی کو بہتر پائیں گے۔

  8. بالکل درست ۔ ۔ ۔
    ضروری نہیں ہر نئی چیز بہت اچھی ہو۔

    مگر آپ کو مانیٹر خریدنے سے قبل کسی سے رائے و مشورہ لیینا چاہیئے تھا۔ ۔ ۔ ۔

    شکریہ

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں