Skip to content

مگر۔ بھٹو پھر بھی زندہ ہے۔

ایک دوست نے یہ وڈیو شئیرکی اور اس وڈیو کو دیکھنے کے بعد مجھے خوشی ہوئی کہ ان سیاست دانوں جیسے لوگ اپنی ان حرکتوں سے میرے ہی مؤقف کی تائید کرتے چلے جا رہے ہیں۔ شخصیت پرستی کی ایک دبیز تہہ ہماری معاشرت پر چڑھی ہوئی ہے اور ہو کیوں نا۔ ہماری تاریخ ، ہمارا ادب ہماری تعلیم، سب کچھ ہی تو اس سے متاثر ہے۔ ہم بچیں بھی تو کیسے بچیں۔

بہرحال سینیٹر مشاہداللہ خاں اور شرمیلا فاروقی نے ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کی اور کچھ اسطرح بیچ چوراہے بھانڈے پھوڑے کہ زبان گنگ ہو کہ رہ گئی۔ آپ بھی ملاحظہ کیجئے::۔

9 thoughts on “مگر۔ بھٹو پھر بھی زندہ ہے۔”

  1. شرمیلا فاروقی کے بارے میں ایک کتاب پڑھی تھی کافی سال پہلے۔۔۔ اس کے باپ نے پاکستان اسٹیل مل کا کباڑہ نکال دیا۔۔۔ اور خود اس کے اور اس کی ماں کے نام اربوں کی ناجائز جائیداد برآمد ہوئی۔۔۔ اور پھر جیسے ہی زرداری صاحب نمودار ہوئے، اچانک ہی یہ بے ایمان خاندان پھر سے اچھی پوسٹوں پر براجمان ہو گیا۔۔۔ اللہ ہی حافظ ہے ہمارا کہ ہم نے فاروقی خاندان جیسے بے ایمانوں کو بھی بڑی بڑی پوسٹوں‌پر بٹھا دیا۔۔۔ کیا ہی بات ہے جمہوریت کی۔۔۔

  2. بات یہی ہے کہ یہ لوگ ایسےہیں ان کےپاس تواپناکچھـ نہیں ہےلیکن نام کوضرورکیش کروارہےہیں پیپلزپارٹی کامنشورہی یہ ہےکہ بھٹوکےنام کواستعمال کرتےہیں اورکرتےرہےگےلیکن عوام بھی بیوقوف ہیں جوکہ ان کےبہاوےمیں آتےہیں۔

  3. شرمیلا فاروقی میں شرم و حیا نام کو نہیں۔ اس کی ایک خوبی تو بہت ہی اعلی ہے کہ اتنا چیختی چلاتی ہے کہ اگلا بندہ بول ہی نہیں پاتا لیکن یہ مشاہد اللہ بھی کسی سے کم نہیں خوب گولہ باری کی ہے۔بہر حال شرمیلا فاروقی کے قصے کہانیاں تو زبان ذد عام ہیں اس وقت سے ہی جب اس کا باپ اسٹیل مل کی ایسی کی تیسی کررہا تھا۔۔۔۔

  4. ایک وہ شمائلہ طارق بھی ہوا کرتی تھیں۔ اور بھی چند نام ہیں۔

    شرمیلا فاروقی جس کے باپ نے بلامبالغہ پاکستانی قوم کو اسکے بھوک سے بلبلاتے بچوں کو اربوں کا ٹیکہ لگایا اور امریکہ بھاگ گیا۔ آج ان سب کے بھاگ پھر سے جاگ اٹھے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے جب جب شرمیلا فارقی نے بغیر کسی کی سنے اپنے طور پہ چیخنا شروع کر دیا کہ ۔۔ ” کیا کہا؟ میری ماں کا نام لیا؟ خبردار اگر میری ماں کا نام لیا تو۔ ۔ ۔ ۔ ” کسی نے انکی اماں حضور کا نام تک نہیں لیا تھا ۔ یہ بے غیرت قسم کے لوگ جو پاکستان کو متواتر تیل دے رہے ہیں۔ یہ تھیٹر بازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

    شرمیلا فارقی اپنی ماں کو بغیر کسی وجہ کے مہان اور توپ قسم کی “عزت دار” ماں قرار دینے کو بے تاب تھیں۔ مگر ان بے غیرتوں کو یہ بھی علم ہونا چاہئیے۔ کہ جس ماں کو یہ اور اسکا باپ اتنے سالوں سے نچوڑ رہے ہیں اور اسکے بھوکے بیٹھے بھک سے مجبور ہو کر اپنے بچوں سمیت ریل کی پٹریوں، نہروں اور دریاؤں میں کود رہے ہیں۔ کیا ایسے بے غیرت خاندان اور انکے بارے میں بھی کبھی سوچتے ہیں یا نہیں۔

    ڈریکولا تو ایک فرضی کردار ہے اور مفت میں بدنام مگر یہ بے غیرت قسم کے لوگ درحقیقت پاکستان کے بیٹوں اور بیٹیوں کے خون سے نولے تر کر کے تناول کرتے ہیں۔

    اللہ کہ شان ہے کہ کس کمینے قسم کے لوگوں کو ہم پہ مسلط کر دیاہے اور ہم ہیں کہ بوٹی پئیے ٹنڈ ۔


    ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ کسی جگہ بھلے مانسوں کے کچھ گروہ نسلوں سے رہتے آرہے تھے۔ انکا پیشہ کھیتی باڑی کرنا تھا۔ ان میں کچھ ٹھگ بھی رہتے تھے۔ٹھگوں نے انہیں نسل درنسل یہ احساس دلا دیا تھا کہ وہ بھلے مانس تو “بونے “۔ ہیں۔ اسلئیے انھیں باقی دنیا اور اسکے بدلتے حالات سے کیا لینا دینا۔ جبکہ وہ بھلے مانس واقعی میں اپنے آپ کو بونا سمجھنے لگے۔اسلئیے انھیں بھی اس میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا تھا کہ باقی دنیا بھی انھیں “بونے “۔ کہہ کر پکارے۔

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں