Skip to content

عید سعودی عرب کے ساتھ ؟؟؟

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی عدیل نے کہا ہے کہ ہم جب حج سعودی عرب کے ساتھ مناتے ہیں تو پھر عید بھی سعودی عرب کے ساتھ منانی چاہئے۔ اپنی عقل کے ساتھ انھوں نے گویا اس مسئلے کاحل پیش کیا ہے۔ موصوف نےرویت ہلال کے تمام تقاضوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے گویا  اس مسئلے کا ایک مستقل حل نکال لیا ہے۔

تفصیلات اس ربط میں۔ رویت ہلال کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔ بہت عرصے ہمارے ملک میں تین تین عیدیں ہوتی رہی ہیں۔  دو  یا تین برس قبل تو یہ معاملہ بہت خراب ہو گیا تھا جب ملک میں چوتھی عید کے آثٓار نمودار ہو رہےتھے۔

یہ مسئلہ کس نے کھڑا کیا ہے؟

حکومت پاکستان؟

صوبہ سرحد؟

مسجد قاسم علی خان کے ذمہ دار حضرات ؟

یا پھر صوبہ سرحد کے عوام ہی ملک سے پہلے عید کرنا چاہتے ہیں؟

حکومت پاکستان نے رویت ہلال کے لئے رویت ہلال کا ادارہ بنایا  ہے۔ اس ادارے کی مرکزی کمیٹی اور مقامی کمیٹیوں کے اجلاس ہر ماہ ملک کے مختلف شہروں میں ہوتے ہیں اور ان میں چاند نظر آنے اور نہ آنے کی بنا پر اسلامی مہینوں کے آغاز یا اختتام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا ، یہ اجلاس سارا سال ہوتے رہتے ہیں، ان اجلاسوں کے فیصلوں سے اختلاف صرف رمضان اور شوال کے چاند کے بارے میں نظر آتا ہے۔ باقی مہینوں میں یہ فیصلہ عموما صوبہ سرحد میں بھی مان لیا جاتا ہے۔ تو آخر ان دو مہینوں کے چاند میں کیا خاص بات ہے کہ یہ ان دو مہینوں میں صوبہ سرحد کے عوام کو پہلے نظر آجاتا ہے، اور وہ بھی اس وقت جب اس کے نطر آنے کی کوئی سائنسی توجیہ بھی نہ کی جاسکے؟

میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔

صوبہ سرحد کی حکومت تو باضابطہ طور پر مرکزی یا صوبائی رویت ہلال کمٹی کے فیصلے کی پابند ہے ، مگر گزشتہ برسوں میں ایسا بھی ہوا جب صوبہ سرحد کی حکومت کے ایک رکن، مولانا فضل علی حقانی نے اپنی ذمہ داری پر لوگوں کے روزے تڑوا کر رات گئے مسجدوں سے عید کا اعلان کروایا۔ اس سال چار عیدوں کا امکان بہت قوی نظر آتا تھا۔

مجھے علم نہیں کہ اصول وضوابط کو چھوڑ کر عوام کی مرضی پر چلنے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔

مسجد قاسم علی خان پشاورشہر کی تاریخی مسجد ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے، شمال مغربی ہندوستان میں رویت ہلال اور عیدین کا اعلان اسی مسجد سےکیا جاتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ایک اسلامی مملکت قائم ہو گئی تو قدرتی طور پر اب ان کمیٹیوں کا خاتمہ ہوجانا چاہئے تھا ۔ اب ایک اسلامی مملکت وجود میں آچکی تھی جو مسلمانوں کے اہم تہواروں کے تعین کی ذمہ داری لے سکتی تھی۔ اس حکومت کے ذمہ داری اٹھا لینے کے بعد اب ان غیر سرکاری کمیٹیوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی تھی، مگر افسوس، لگتا یوں ہے کہ مسجد قاسم علی خان کے زمہ دار علما  حضرات رضاکارانہ طور پر اس زمہ داری سے دستبردار ہوتے نظر نہیں آتے۔

ایک اسلامی مملکت ، اور اس کے بعد مسلمان علما حضرات پر مشتمل ایک ذمہ دار ادارے کے پوتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ایسی ذمہ داری کسی کو لینی ہی نہیں چاہئے جس سے کسی قسم کا فساد پھیلنے کا اندیشہ ہو۔

ایے کسی ادارے کی قانونی حیثیت پر بھی بہت سے سوال اٹھتے ہیں اور جیسا کہ مندرجہ بالا ربط میں سوال اٹھایا گیا،پشاور میں سرکاری اجلاس کےہوتے ہوئے بھی، شہادتیں مسجد قاسم علی خان کو کیوں پیش کی جاتی ہیں۔ مسجد قاسم علی خان کے ذمہ دار کیوں رضاکارانہ طور پر ان گواہوں کو حکومت کی طرف روانہ نہیں کردیتے؟

صوبہ سرحد میں اس وقت بہت زیادہ تعداد ان افغانیوں کی ہے جو مہاجرین کے طور پر یہا ں آ ئے اور اب مستقل رہ رہے ہیں۔ افغانستان میں روایتی طور پر عید سعودی عرب کے ساتھ کی جاتی ہے، لہذا انھں نے یہاں بھی اپنا یہی رواج رکھا۔

ان کا یہ رواج دیکھ دیکھ کر شائد لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہو کہ عید سعودی عرب کے ساتھ منانے میں شائد کوئی فضیلت ہے۔ پھر ہم لوگ آرام پسند بھی تو ہیں، عید سعودی عرب کے ساتھ منا کر ایک روزہ کم کرنے کا بہانہ بھی مل جاتا ہو؟

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ آپ جس جگہ رہ رہے ہیں، اور وہ جگہ اگر اسلامی حکومت کے زیر انتظام ہے تو پھر آپ کو حکومت کے قوانین کی پابندی کرنی چاہئے۔ حکومت کے پاس بہت سے ذرائع ہیں چاند کےنظر آنے یا نہ آنے کی تصدیق کرنے کے لئے، اور یہ ذمہ داری اس پرچھوڑ دینی چاہئے۔ رمضان المبارک یا عید کا فیصلہ بینادی طور پر چاند کے نظرآنے پر ہوتا ہے، اس بات پر نہیں کہ چاند جب نظر آیا تو کتنا بڑا اور چھوٹا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اس مرتبہ یہ کہا کہ حکومت نے جب رمضان کا اعلان کیا تو ااس رات چاند بہت بڑا تھا، اور غالبا ایک روزہ قضا ہو چکا تھا، یہ دلیل مجھےاکثر ان لوگوں نے دی جو حکومت کے اعلان سے قبل روزہ رکھ چکے تھے۔

آخر میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ سے مختلف تاریخوں میں چاند کے نظر آنے کی پیش گوئیاں پیش خدمت ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھئے گا کہ اس ویب سائٹ میں چاند کے نظر آنے کی جو تاریخ بیان کی گئی ہے اکثر حکومتی فیصلہ میں اس تاریخ ہی کو چاند نظر آتا ہے۔ اس سے پہلے نہیں۔

شروع میں رمضان المبارک کے آغاز کی کچھ تاریخوں کے پیش گوئیاں:۔

2eolgkw

5pn59k

2yznbiv

10en7rt

zm1lr6

10 thoughts on “عید سعودی عرب کے ساتھ ؟؟؟”

  1. http://www.jang.com.pk/jang/sep2009-daily/17-09-2009/euro.htm
    مندرجہ بالا ربط میں یہ عندیہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر سعودی عرب میں صحیح رویت پر فیصلہ ہوا تو سعودی عرب میں بھی اکیس ستمبر بروز پیر عید الفطر ہوگی.
    Image and video hosting by TinyPic

  2. جی منیر، یہ بات تو مجھے بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ جب چاند کا مسئلہ رویت کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو اسے مسئلہ کیوں بنا لیا گیا ہے۔ جس دن بھی نظر آئے اس دن کا اعلان کر دیں۔ اب اگر محکمہ ء موسمیات والوں کے مطابق چاند ایکدن یقیناً نظر آئیگا لیکن اتفاقاً بادل آگئے تو چاند نظر نہیں آئیگا۔
    کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں ساری اسلامی دنیا ایک ساتھعید منائیں۔اس سے اتحاد ظاہر ہوگا۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ عید اتحاد کے اظہار کے لئے نہیں منائ جاتی۔ اسکا تعلق رمضان کے روزوں سے ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ عید منانا کوئ فرائض میں سے نہیں۔ انہیں دوسرے مسلمانوں پر کوئ فوقیت حاصل نہیں ہے۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ اسلام وہاں سے ابھرا ضرور ہے لیکن انہیں اسکا رکھوالا نہیں بنایا گیا ہے۔ تمام مسلمانوں کو اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی اجازت ہے۔ اور انہیں اسلام کی اس جمہوری روح سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔
    اب جناب عدیل صاحب سے کہیں کہ دیگر مسائل کے بھی اسی طرح کے جامع حل پیش کر دیں تاکہ ہم کچھ اور کرنے کے قابل ہو سکیں۔ عید سعودی عرب کے ساتھ، سیاسی مسائل کے حل کے لئے سعودی بھائیوں سے گذارش، کھیتی باڑی کے لئے سعودی برادران کے لئے زمین حاضر۔ سعودی عرب ہمارے لئے دوسرا امریکہ نہیں بنتا جا رہا۔
    .-= عنیقہ ناز´s last blog ..کچھ لکھنے سے پہلے =-.

  3. مسئلہ سارا انا اور فرقہ بندی کا ہے۔ بات وہی ہے کہ اگر حج سعودی عرب کیساتھ ہو سکتا ہے تو پھر عید کیوں نہیں۔ دراصل جب کمیونیکیشن کا فقدان تھا تو ہر گاوں میں عید چاند دیکھ کر ہوتی تھی۔ جوں جوں کمیونیکشن ترقی کرتی گئی عید گاوں سے شہروں اور پھر ملکوں میں ایک ساتھ ہونے لگی۔ اب جبکہ کمیونکیشن نے دنیا کو سکیڑ کر رکھ دیا ہے تو پھر عید دنیا بھر میں ایک ساتھ کیوں نہیں۔
    منطق یہ کہتی ہے کہ آنکحوں چاند دیکھنے کی سادی سی وجہ یہ ہوتی تھی کہ اس وقت جدید ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی۔ اب جب سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے اور چاند کا کیلنڈر بھی بنایا جا سکتا ہے تو پھر کیلکنڈر کیوں نہیں بنایا جاتا۔
    ویسے بھی آج کل کے کتنے فیصد مسلمان پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں اور اگر وہ نماز کے طارق ہو سکتے ہیں تو پھر چاند پر جھگڑا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
    اتحاد مسلمین کیلیے بھی ضروری ہے کہ اب رویت حلال کمیٹی بین الاقوامی بنیداوں پر بنائی جائے جس میں سارے اسلامی ممالک شامل ہوں اور یہ کمیٹی فیصلہ کرے کہ دنیا بھر کے مسلمان کب عید کریں گے۔
    ان سب جھگڑوں کا حل اسلامی کیلنڈر ہے مگر کیا کیا جائے جب خود غرضی نے آنکحوں پر پٹی باندھ دی ہو اور ہر فرقے کے مولوی کی اجارہ داری خطرے میں پڑنے لگے تو پھر اس نے تو اپنی مرضی کرنی ہی ہے۔
    .-= میرا پاکستان´s last blog ..ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور =-.

  4. بالکل عنیقہ :: میری ابھی ابھی ایک دوست ڈاکٹر صاحب سے بحث شروع ہوئی ہے. جب میں نے انھیں بتایا کہ سائنسی اندازوں کے مطابق کل تو مکہ میں بھی چاند نظر +نے کا امکان نہیں ہے تو وہ الٹا رویت ہلال کمیٹی کے علما پر اعتراض کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تنخواہ دار علما کیا حل پیش کریں گے.

    ان کو اس بات پر کامل یقین ہے کہ مسجد قاسم علی خان میں جو شہادتیں پیش کی گئیں وہ ٹھیک تھیں، اور یہ کہ ویب سائٹ وغیرہ پر یقین نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ کفار کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سازش بھی ہو سکتی ہے. اگر پڑھے لکھوں کا یہحال ہے تو عوام کا تو اللہ ہی حافظ.

    اب صوابی وغیرہ میں تو اتوار کو ہر حال میں عید ہو گی، چاہے سعودی عرب میں ہو یا نہ ہو.

  5. میرا پاکستان :: میں آپ سے اختلاف کرنے کی جسارت کروں گا. اس معاملے میں فرقہ بندی سے زیادہ کوئی اور مسئلہ اثر انداز ہو رہا ہے. شائد آپ بھول رہے ہیں پاکستان میں فرقہ بندی کی بنیاد پر عید اور رمضان کا اختلاف کبھی بھی پیدا نہیں ہوا. حتیٰ کہ سُنی اور شیعہ میں جتنے بھی اختلافات ہوں، انھوں نے فرقہ کی بنیاد پر کبھی عیدین الگ نہیں منائیں.

    بات علاقائیت کی ہے. بات لسانیت کی ہے، بات اور کچھ ہے، مذہبی فرقہ واریت کی نہیں ہے.

  6. منیر صاحب میں‌ آپ کی اس بات سے متفق ہوں کہ فرقوں سے زیادہ اس میں‌علاقائیت اور مقامی کنٹرول کا معاملہ ہے۔ کراچی میں‌ ایک علاقے میں‌افغان بستی قائم ہے اور وہاں‌ ہمیشہ ایک دن پہلے یا دو دن پہلے عید ہوجایا کرتی تھی جبکہ باقی ملک کی اکثریت بلا لحاظ‌فرقہ بندی ایک ہی دن عید کیا کرتی تھی۔ کم از کم ایک ملک کی سطح پر ایک ہی دن عید کرلینی چاہیے اور حکومت کو اس معاملے میں‌بھی رٹ‌قائم کرنے کے بارے میں‌سوچنا چاہیے۔ اکیسویں صدی میں جب کہ لوگ چاند پر رہائش کی باتیں کررہے ہیں‌ ہم ابھی تک چاند کی پوزیشن کا تعین ہی نہیں‌ کرسکے ہیں‌ جو بہت مضحکہ خیز ہے۔

  7. ہر سال کی طرح اس سال بھی پنجابی والا یہی “رنڈی رونا” ہوگا۔ اور اس کا حل کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ حسب توفیق عیدوں کی صورت میں نکلے گا۔
    میرا پاکستان: آپ کے تبصرے میں لفظ طارق نام ہے شاید آپ تارک لکھنا چاہتے تھے۔
    .-= دوست´s last blog ..پورٹیبل =-.

  8. میرا پاکستان کی تصحیح کرنی تھی اور وہ یہ کہ حج سعودیعرب کے ساتھ نہیں کی جاتا بلکہ چونکہ وہ مقام وہاں پر ہے اور اس فریضے کی عدائیگی وہاں پر ہوتی ہے تو یہ وہاں ہو جاتا ہے اور باقی ساری دنیا میں عید قربان بھی الگ الگ دنوں پر ہوتی ہے۔ اب اگر اس سلسلے میں آپکی اجتہاد والی بات مان لی جائے تو اور بھی بہت سارے مسائل ہیں جن کے بارے میں ہم سوچتے ہیں کہ ایسا اس وقت اس وجہ سے ہوا ہوگا۔ جیسے خواتین کا اکیلے سفر کرنا۔ اب جبکہ ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر گئ ہے کہ ہزاروں میل کے فاصلے کی کوئ اہمیت نہیں تو اسے بھی مسئلہ نہیں بنانا چاہئیے اور دیگر لاتعداد مسائل جو محض انا کے مسئلے کی وجہ سے گھمبیر بنا دئیے گئے ہیں ان پر بھی یہی طرز عمل اختیار کر لینا چاہئیے۔ مجھے تو اس صورت پر بھی اعتراض نہ ہوگا۔ کیوں میرا پاکستان صاحب۔
    .-= عنیقہ ناز´s last blog ..کچھ لکھنے سے پہلے =-.

  9. i am facing problem with urdu editor, therefore couldnot comment on the blog.
    anyway I found different astrological charts predicting the visibility of moon on the horizon . Please follow the links below and you will see that today’s moonsighting in parts of NWFP is almost impossible, the only possibility being delusions.

    [Some links may require adobe acrobat or other PDF reader software.]

    http://www.phys.uu.nl/~vgent/islam/1430/1430g_10b.pdf

    Global visibility map for Shawal Moon on 19/09/09

    http://www.phys.uu.nl/~vgent/islam/1430/1430g_10c.pdf

    Global visibility map for Shawal Moon on 20/09/09

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں