Skip to content

بلیک واٹر کی تلاش۔

بریگیڈئر بلا کے انکشافات اور گڑے مردے اکھاڑنے کے بعدآج کل جو موضوع  ہر جگہ زیر بحث ہے وہ بلیک واٹر یا زی کی پاکستان میں موجودگی ہے۔حالآنکہ پاکستانی حکومت کے تقریبا تمام عہدے دار اس تنظیم کی پاکستان میں موجودگی کی تردید کر چکے ہیں، تاہم کئی ذرائع نے  مختلف واقعات کو بیان کرکے بلیک واٹر کی پاکستان میں موجودگی کی نشان دہی کی ہے۔

کچھ واقعات تو ایسے ہوئے جن پر بجا طور پرایک محب وطن پاکستانی کو پریشان ہونا چاہئے، مثلا اسلام آباد میں ایک پاکستانی کی امریکی اہلکاروں کے ہاتھوں رستہ نہ دینے پر پٹائی اور امریکیوں  کا اسلام آباد کے تھانے میں آ کر اپنے ساتھیوں کو چھڑا لے جانا۔

ابھی تو ابتدا ہے، دیکھئے ہماری شامت اعمال ہمیں کیا کیا دن دکھاتی ہے۔۔

۸ مارچ ۲۰۰۸ کو روزنامہ  دی نیوز اسلا م آباد میں ممتاز دفاعی تجزیہ نگار محترمہ شیریں مزاری کا ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اس وقت اگر کوئی اس مضمون کو پڑھتا تو محترمہ کے خیالات کا مذاق اڑاتا ، مگر آج کل کے حالات اور آنے والی اطلاعات کی بنا پر ضروری ہے کہ اس مضمون کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ اس مضمون کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں۔

This scribe has learnt of the latest set of 11 demands the US has put to the Government of Pakistan through the Ministry of Defence. As one goes down the list of the demands, they become increasingly untenable.

The second demand is that these personnel be allowed to enter and exit Pakistan on mere National Identification (for example a driving licence) that is without any visas.

Next, the US is demanding that Pakistan accept the legality of all US licences, which would include arms licences. This is followed by the demand that all these personnel be allowed to carry arms and wear uniforms as they wish, across the whole of Pakistan.

Then comes a demand that directly undermines our sovereignty – that the US criminal jurisdiction be applicable in Pakistan to US nationals. In other words, these personnel would not be subject to Pakistani law.

In the context of Pakistan, the demand to make the US personnel above the Pakistani law would not be limited to any one part of the country! So the Pakistani citizens will become fair game for US military personnel as well as other auxiliary staff like military contractors.

At number eight is the demand for free movement of vehicles, vessels including aircraft, without landing or parking fees! Then, at number nine, there is a specific demand that selected US contractors should also be exempted from tax payments.

Demand number eleven is for a waiver of all claims to damage to loss or destruction of others’ property, or death to personnel or armed forces or civilians. The US has tried to be smart by not using the word “other” for death but, given the context, clearly it implies that US personnel can maim and kill Pakistanis and destroy our infrastructure and weaponry with impunity.

امید ہے آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے اس رپورٹ اور اب بلیک واٹر یا زی کی پاکستان میں موجودگی کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ 

 

 

اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

ہم لوگ تو فطری بات ہے، پہلے حکمرانوں کی طرف دیکھیں گے ، کہ ان کا رویہ کیا ہے۔ ہمارے حکمران تو فی الحال ہمیں تسلیاں دے رہے ہیں کہ گھبرانے کی بات کوئی نہیں مگر جب سے ہوش سنبھالا ہے، کسی حکمران کی بات درست نکلتی نظرنہیں آئی۔

 

ہمارے ملک میں صرف دائیں بازو کی چند جماعتوں اورعوامی رائے کے کچھ حصوں کے علاوہ کسی نے آواز بلند نہیں کی ہے۔ حتیٰ کہ مسلم لیگ نون بھی اس معاملے میں خاموش ہے۔ اے این پی کا تو نہ پوچھیں، انھوں نے پختونوں کا مقدمہ واشنگٹن میں لڑنا ہوتاہے، اپنے انتخابی حلقوں میں نہیں۔

 

عوامی رائے میں بے چینی نظر آتی ہے، مگر یہ ایک منظم انداز  میں نہیں، مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے بھیڑیں پریشان ہو کر باڑے میں دوڑنے پھرنے لگتی ہیں، بعینہ ایسی ہی حالت ہے ہماری۔ ہم جو کچھ بھی ہیں، جیسے بھی ہیں، جہاں بھی ہیں، ہمیں اتحاد کی جتنی ضرورت اب ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ ہمیں بلیک واٹر یا زی کی موجودگی کے بارے میں ایک منظم طریقے سے کام کرنا ہوگا اور گربہ کشتن روز اول کے مصداق کوشش کرنی ہوگی کہ  ہم ان کےٹھکانوں اور کارروائیوں سے باخبر رہ سکیں۔ مجھے امید ہے ہماری انٹیلیجنس ایجنسیاں اپنےفرض سے بے خبر نہیں ہیں اور انھوں نے پہلے سے ہی یہ کام شروع کر رکھا ہوگا۔ مگر ہمیں اپنے طور پر بھی کوشش کرنی چاہئے۔ اس سلسلے میں ٹیتھ مائسٹرو نے اپنے بلاگ پر ایک تجویز پیش کی ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت اچھی تجویز ہے۔  تجویز کے مطابق:۔

  1. Help document all their locations across Pakistan on a Map hence making it public knowledge, at Map.Pakvoices.net, this I believe is a noble thing to do since they’re definitely a security risk for us Pakistanis and the least patriotic thing that we can do is point out these rogue militia [NOTE: All submissions will need to be verified before going live]
  2. Help take pictures / videos of any encounters you may have with this militia, spot them on the street, snap a picture and post them on either on Youtube / flickr [without unnecessarily exposing yourself] you can also submit them as an incident at Pakvoices or email to [email protected]
  3. You can also symbolically join the Facebook group EXPEL Blackwaters & US marines from Pakistan
  4. More importantly do join the effort to spread the word making more and more Pakistanis become aware of this increasing menace in Pakistan, a few good suggestions have been suggested by Talkhaaba

 

 

اگر ہمیں اپنے ملک کو عراق اور افغانستان کے حشر سے بچانا ہے تو ہمیں ابھی سے یہ کام کرنا ہوگا۔ میری اردو بلاگرز سے درخواست ہے کہ وہ بھی اس تجویز کو اپنے بلاگ  پر جگہ دیں۔ اور اس کام میں اپنے ہم وطنوں کا ہاتھ بٹائیں۔

12 thoughts on “بلیک واٹر کی تلاش۔”

  1. اسماء پيرس

    خرم بھٹی صاحب کہہ رہے تھے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہيں اور آپ کہہ رہے ہيں ڈرو ڈرو ،آخر ميں آپ دونوں ميں سے کس کی بات کا يقين کروں؟

  2. @اسما

    میں خرم کی تحریر سے بالکل متفق نہیں اور میں نے اس کو کہا بھی تھا لیکن وہ مجھے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

  3. منیر، نہیں یاد کہ میں نے آپکے اس بلاگ تھیم کی تعریف کی ہے کہ نہیں۔ لیکن آج یاد سے کر رہی ہوں کہ یہ خاصہ اچھا ہے ۔آنکھوں کو بڑی ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے اور کافی ماڈرن لک آتی ہے۔ جیسے سائنس کی کسی لیبارٹری میں موجود ہوں۔ میرا بنیادی تعلق چونکہ سائنس سے ہے اس لئے اسکی مثال دے رہی ہوں۔ آپ بھی اب پہلے کی نسبت خاصی دلجمعی اور اچحے انداز میں لکھ رہے ہیں۔ شاباش۔
    باقی مضمون کے بارے میں یہ کہ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔ اچھا گھبرا بھی لیں تو کیا ہوگا۔ محض شیر آیا کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ چلیں ہم اس خیال سے متفق ہوجاتے ہیں کہ کچھ بہت برا ہونے جا رہا ہے۔ لیکن اب کیا کرنا چاہئیے۔ یا ہم کیا کر سکتے ہیں جسکا کوئ نتیجہ نکلے۔
    .-= عنیقہ ناز´s last blog ..میں، وہ اور قومی ترانہ =-.

  4. میں اس کے بارے میں 17 ستمبر کو پوسٹ کر چکا ہوں ۔اس تنظیم کا ریکارڈ دیکھ کر واقعی بات پریشانی والی ہے مگر ہماری آرمی ، انٹیلی جنس ، سیاستدان ، صدر ، وزیراعّظم ، آخر انکو اعتماد میں لیا گیا ہو گا رہ گئی بات ہماری ہم تو آزاد ملک کے غلام ہیں۔
    http://kami.wordpress.pk/2009/09/17/%d8%a8%d9%84%db%8c%da%a9-%d9%88%d8%a7%d9%b9%d8%b1-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/
    .-= کنفیوز کامی´s last blog ..سب کا شکریہ =-.

  5. اسماء پيرس

    بدتميز آپ کا امريکہ سے اپنی رخصتی کروانے کا ارادہ تو نہيں ہو رہا مجھے تو سات کوہ دور بيٹھ کر بھی امريکہ کے خلاف بات کرتے ڈر لگتا ہے

  6. اسماء پيرس

    عنيقہ ناز بھی بڑی نظر شناس خاتون (لڑکي) ہيں جو ويب سائيٹ کی لک کو سائنسی کہا ہے ميں بھی سوچ رہی تھی ويب سائٹ ديکھ کر کيا ياد آ رہا ہے مگر وہ کيا ياد ہی نہيں آ رہا تھا اب پتہ چلا ميٹرک کی سائنس کی کوئی کتاب غالبا طبعيات ايسی ہی ہوتی تھی

  7. اسما :: بات یہ ہے کہ ہم اب اتنے بھی آزاد نہیں ہیں کہ ہماری حکومتیں ہر اہم فیصلے سے پہلے عوام کو اعتماد میں لیں. ہر حکمران اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتا ہے. وہ مشہور زمانہ فون کال تو یاد ہو گی نا ستمبر یا اکتوبر 2001 میں جو امریکہ سے ہمارے بہادر کمانڈو کو کی گئی تھی؟

    اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کو محسوس کرنا چاہئے وہ ہے قیادت کا فقدان بلکہ جراَت مند قیادت کا فقدان. پھر حکومتی معاملات میں شفافیت نام کی چیز دور دور تک نہیں پائی جاتی.

    عنیقہ صاحبہ :: شکریہ، نوازش بلاگ تھیم پسند کرنے پر. مکی صاحب کے بلاگ سے لی تھی، اور مجھے آسان سی لگی سو کچھ ترمیم کے بعد میں نے اس کو رکھ لیا. موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ اگر میرے پاس حل ہوتا تو کیا کہنے. میں تو رموز مملکت خسرواں دانند کے مصداق اس گروہ میں بھی نہیں جو حل تلاش کرنے کا دوعوی کر سکتا ہے، مگر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ جراَت مند حکمران ہی اس وقت اس مسئلے کا حل ہیں. سمجھوتوں، معاہدوں اور مصلحتوں کے شکار لوگ کیا ہماری نگہبانی کریں گے.

    کامی آپ کی تحریر 404 ایرر کا شکار ہو چکی ہے. مجھے تو کہیں نہیں ملی. غالبا آج کل ورڈ پریس ڈاٹ پی کے کا ستارہ گردش میں ہے.

  8. ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
    جب سے حروف کی پہچان ہوئی ہے، یہی پڑھتے آرہے ہیں کہ ہم تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑے ہیں، ملک کو چیلنجز کا سامنا ہے، عوام کو قربانی دینی پڑے گی۔۔۔
    لہاذا اب اس طرح کی کوئی بھی بات کسی بھی قسم کی پریشانی پیدا نہیں کرتی۔۔۔

  9. ارشاد علی

    پاکستان میں بلیک واٹر کے بارے میں ایک اور مراسلے اور ویڈیو پر بھی میں نے تبصرہ کیا تھا جس میں میں نے اس افواہ کی تخلیق میں کئے گئے تکنیکی خرابیوں کا ذکر کیا تھا- مذید تبصرہ کرنے سے یہ ڈر بھی لگتا ہے کہ کل کو مجھ پر بھی یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ کا دھبہ لگ سکتا ہے- اور اُسکی سزا کا پتہ سب کو معلوم ہے- لہٰذا آج میں اُسی وڈیو اور اِس مسئلے پر متحدہ عرب امارات کے ایک اخبار میں کئے گئے تبصرے سے اقتباس پیش کرتا ہوں جسکا خلاصہ یہ ہے کے یہ معاملا پاکستان کے فوجی اداروں میں موجود امریکہ مخالف عناصر، حزبِ اختلاف اور مذھبی جماعتوں نے محض حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کھڑا کیا ہے-

    سزا جزا سب کچھ بر گردنِ راوی، اخبار لکھتا ہے-

    “معروف قوم پرست کالم نگار شیرین مزاری جسکے کالموں میں امریکہ مخالف عنصر نمایاں ہوتا ہے- نے امریکی سفیر پراپنے کالم کو ملک کی کثیرالاشاعت اخبار “دی نیوز” میں شائع ہونے سے روکنے کا کھلے عام الزام لگایا- امریکی سفارتخانے نے اس الزام کی تردید کی- تاہم محترمہ مزاری نے “دی نیشن” میں شمولیت اختیار کی جسکے چیف ایڈٹر نے بھی ملک میں امریکیوں کے بغیر ویزے کے داخلے کا اشارہ دیا تھا- ”

    یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ مزاری صاحبہ کے اِس الزام کے جواب میں “دی نیوز” کی ٹیم نے اپنے موقف میں امریکی دباؤ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ محترمہ کا مذکورہ کالم میعیار پر پورا نہیں اترتا تھا اور اس میں لگائے گئے الزامات غیر مصدقہ تھے اور ان کو ثبوت مہیا کرنے کا وقت دیا گیا تھا جو وہ نہ کرسکی- مذید یہ کہ “دی نیوز” نے اس کو شائع کرنے سے انکار بھی نہیں کیا تھا-

    “جماعتِ اسلامی کے رہنما میاں منور حسن نے کہا کہ اس معاملے (بلیک واٹر) میں حکومت کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے-”

    “نیو یارک میں مقیم پاکستانی سیاسی تجزیہ کار عارف رفیق کا کہنا ہے کہ پچھلے آٹھ سالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان کافی حد تک تعاون دیکھنے میں آیا ہے لیکن اسکے باوجود دونوں ممالک کے حساس ادارے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- پاکستان کے فوجی انتظامیہ میں گہرا تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکہ نہ پہلے اور نہ کبھی آیندہ پاکستان جیسے مسلمان قوم کی ایٹمی طاقت پر قناعت کر سکتا ہے”

    لاہور کے سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض حزبِ اختلاف اور مذھبی جماعتوں کی طرف سے پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے- جن کی اکثریت سوات میں فوجی آپریشن کی مخالف تھیں- لیکن عوام کی رائے میں تیزی سے آنے والی تبدیلی کو جانچتے ہوئے انہوں نے اپنے توپوں کا رخ اس طرف موڑ دیا- انہوں نے اس معاملے کو بین الاقوامی سے زیادہ اندرونی عنصر قرار دیا-

    رضوی صاحب نے بھی یہ تاثر دیا کہ حساس اداروں اور فوج کے اندر موجود امریکہ مخالف عناصر سفارتخانے میں وسعت کے معاملے کو حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے بطورِ آلہ استعمال کر رہے ہیں-

    دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کا مسئلہ حکومت کے خلاف موثر ترین ہتھیار ہے- اُن کے مطابق پاکستانی میڈیا نے میانہ رو تجزیہ کاروں کو بلانا چھوڑ دیا ہے کیونکہ یہاں امریکی مخالفت کو حب الوطنی کے مترادف سمجھا جاتا ہے-

    آخر میں اخبار نے علم ٹی وی کی وڈیو پر اپنا تبصرہ ان الفاظ میں کیا ہے-

    “سبز رنگ کے جیکٹ اور سفید سکارف میں ملبوس دبئی کی غیر معروف دفاعی تجزیہ نگار ثنا اعجازی اس وڈیو میں ملک میں امریکہ کے نجی سیکیورٹی کے ادارے کے اہلکاروں کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہتی ہے- ‘میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ سب پاکستانی امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھیں- اور میڈیا کے ذریعے، انترنیٹ کے ذریعے یا جسمانی طور پر تمام وسائل کو استعمال کر کے امریکہ کو ناکام بنائیں.'”

    اخبار نے ایک تجزیہ کار کی طرف سے عوام کو براہ راست مخاطب کرنے پر تعجب کا اظہار کیا ہے-

    ”متعلقہ مراسلے کا ربط یہ ہے”

    http://www.thenational.ae/apps/pbcs.dll/article?AID=/20090917/FOREIGN/709169884

  10. ارشاد علی

    معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ جب میں نے معروف صحافی ہارون الرشید کے کالم “ناتمام” میں پڑھا کہ بلیک واٹر نہ صرف پاکستان میں موجود ہے بلکہ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اور روانی سے اردو یا پنجابی زبان بولنے والے افراد کو ترجیحی بنیادوں پر تعینات بھی کرتے ہیں- ساتھ ماہانہ ساڑھے چار سو ڈالر وظیفہ دیتے ہیں- (جو میری موجودہ تنخواہ سے 82 اعشاریہ 33 گنا زیادہ ہے)- تو دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کسی کنسلٹنت سے بات کی جائے- لیکن پہلے اسکی شرعی حیثیئت معلوم کی جائے-

    سات ستمبر کے روزنامہ نوائے وقت میں یہ پڑھ کر مجھے سخت مایوسی ہوئی کہ:

    بلیک واٹر ”ڈیتھ سکواڈ “ ہے‘ مسلمانوں کا اس میں شامل ہونا حرام ہے: فضل الرحمن

    ربط: http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Regional/Islamabad/07-Sep-2009/12143

  11. ہا ہا

    ارشاد آپ پہلے فیصلہ کر لو کہ آپ نے کس زندگی کا معیار بہتر کرنا ہے،
    دنیاوی زندگی کا
    یا
    اخروی زندگی کا.

    پھر آپ کے لئے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا. ویسے آپ نے پہلے تو کبھی فضل الرحمن صاحب کی کوئی بات نہیں مانی، اب کیوں ان کے فتوے پر اعتبار

  12. سر جی بلہیک واڑت بالکل پاکستان میں موجود ہے
    میں نے ہمر گاڑیاں شیخوں کے پاس دیکھی ہیں یا ملائشیا میں چند ایک
    لیکن اسلام آباد میں اس عید پر مین ان کی تعداد دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں
    کم از کم میں نے پچھلے پچیس سال میں اسلام آباد میں کبھی کوئی ہمر نہیں دیکھی تھی
    ہاں لیکن پاک وہیلز کی سائیٹ پر
    باقی ایک پوسٹ آ رہی ہے
    .-= DuFFeR – ڈفر´s last blog ..معذرت نامہ =-.

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں