Skip to content

اب یو ٹیوب تک رسائی ممکن۔

میں خدائے ذوالجلال کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہم میں سے اُن لوگوں کی سُن لی جو یوٹیوب، فیس بک، گوگل کی چند سب ڈومینز اور وکی پیڈیا کی چند سب ڈومینز کے پاکستان میں بند ہونے سے اس خدشے کا شکار تھے کہ یہ دراصل پوری قوم کو جاہل بنانے کی سازش ہے۔
پاکستان میں اب یوٹیوب دیکھی جا سکتی ہے، اور مزے کی بات اس میں موجود علم کے بیش بہا خزانے سے اب ہر خاص و عام اپنی ضرورت کے مطابق کما حقہ مستفید ہو سکتا ہے۔
مجھے اس لئے بھی خوشی ہے کہ اب پونے دو کروڑ پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت فورا سے پہلے یوٹیوب کا رخ کر کے اپنے علم کی پیاس بجھا سکے گی اور گزشتہ چند دنوں سے یو ٹیوب تک رسائی نہ ہونے سے  اسےجو نقصان ہوا ہے اس کا جلد از جلد ازالہ کر نے میں کامیاب ہو پائے گی۔

مجھے یقین ہے ایسے چند دانشور اور پیدا ہوگئے تو ہم حقیقت کا ادراک کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اپنی پوری قوم میں سے کچھ ایسے نوجوان تو پیدا کر ہی لیں گے جو ایسی ویب سائٹس بنا لیں جو اربوں ڈالرز مالیت کی حامل ہوں۔

نماز روزے، قرآن کا کیا ہے، وہ تو ہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے۔ اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ
دین ملا فی سبیل اللہ فساد۔

15 thoughts on “اب یو ٹیوب تک رسائی ممکن۔”

  1. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی پاکستان میں تواس کی بہت ہی کمی محسوس کی جارہی تھی اورطالب علموں کابہت حرج ہورہاتھا۔۔۔۔۔۔۔

    والسلام
    جاویداقبال
    .-= جاویداقبال´s last blog ..Cancionero (y XXXVIII) =-.

  2. نہیں، ایمان کی وہ روشنی جو اسکے بند ہونے کی وجہ سے پاک استان کے چپے چپے کو روشن کر رہی تھی وہ ختم ہو گئ ہوگی۔ اس لئے کل رات کو مجھے اچانک لگا کہ اچانل پر نور نظر آنے والے چہرے ایکدم سے شیطانی کیوں لگنے لگے۔اس تمام عرصے میں مومن ہو جانے والے پاکستانی پھر سے کفار کے کفر کا نشانہ بننے کے لئے آگئے۔ اور اسلام کے قلعے میں اسلام کو محبوس کرنے کی خواہش کو پھر سے روندنے کی تیاری شروع ہو گئ۔
    اگر یہ بند رہتی تو اس سال امکان تھا کہ پورے رمضان ہر پاکستانی پورے روزے رکھ کر اعتکاف میں بیٹھتا۔ تمام سیٹھ پوری صداقت سے زکوۃ ادا کرتے۔ مساجد میں ان دنوں جو رش نظر آیا وہ باقی تمام دنوں میں بھی رہتا۔
    چونکہ اس تمام عرصے میں اہل کفار دہماری نظروں سے اوجھل اور دنیا سے غائب ہو چکے تھے تو امید ہے کہ کوئ اور انیس بیس سال کا لڑکا بارودی جیکٹ نہ پہن رہا ہوگا۔
    یقینی طور پہ ان چند دنوں میں پاکستان میں کسی خاتون کے ساتھ زنا بالجبر نہ ہوا ہوگا۔ کسی ایماندار شخص نے اپنا وقت دھندہ کرنے والی عورت کے ساتھ نہ گذارا ہوگا۔ کہیں رشوت نہ لی گئ ہوگی۔ اور نہ کسی نے دی ہوگی۔ ہمارے نوجوانوں نے کوئ فحش سائیٹ نیٹ پہ نہ دیکھی ہوگی۔
    تمام لوگوں نے اپنے فرائض بہ حسن و خوبی ادا کئے ہونگے۔ اور اب کسی کو نظام کے غیر منصفانہ ہونے کی شکایت نہ ہو ئ ہوگی۔
    تو اتنی زیادہ برکات حاصل ہونے کے بعد، خدا نے نابکاروں کی سن لی اور نیکوں کی نہ سنی۔ خدا بھی تو اپنے نیک بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔ اور آپکی آزمائش ایسے بد ترین لوگوں کے ساتھ رہنا ہے جنکی خدا سنتا ہے۔
    .-= عنیقہ ناز´s last blog ..انکار یا فرار =-.

  3. تلوار سے آپ کسی کافر کو جہنم رسید کر سکتے ہیں اور کسی مسلمان کی گردن بھی اتار سکتے ہیں۔
    بندوق سے آپ اپنا دفاع بھی کر سکتے ہیں اور کسی کو گن پوائنٹ پہ لوٹ بھی سکتے ہیں۔
    پتھر مار کے آپ درخت سے پھل بھی اتار سکتے ہیں اور کسی کا سر بھی پھوڑ سکتے ہیں۔
    یوٹیوب سے آپ علم بھی حاصل کر سکتے ہیں اور برائی بھی۔
    شاید آپ کو یوٹیوب سے کوئی علمی استفادہ نہ ہوا ہو، لیکن بہت سے طالب علموں کو ہوتا ہے۔
    خدارا اپنی سوچ کو تھوڑا سا وسیع کیجیے۔ اللہ نے ہمیں جو نعمتیں دی ہیں اگر ہم انہیں برے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ہمارا اپنا قصور ہے، اس نعمت کا نہیں۔ اور انٹرنیٹ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

    (اب اس تبصرے کے جواب میں چاہے دشنام طرازی ہو جائے، میں جو کہہ سکتا تھا کہہ دیا۔)
    .-= قدیر احمد´s last blog ..Internet Ban – Get A Sense Yar !!! =-.

  4. یوٹیوب کی واپسی سے طنز کے نشتر ایکبار پھر تیز ہوگئے ہیں
    نماز ،روزے اور قرآن کا اس انداز میں ذکر نہ کریں‌کہ بے توقیری کا احساس ہو، یہ بھی تو ذاتی معاملہ ہے کہ کوئی فیس بک یا یوٹیوب کو پسند کرے یا نہ کرے۔
    نماز روزہ ذاتی نہیں‌بلکہ ہر مسلمان پر فرض ہے

  5. میرا چھوٹا بھائی ورچوئل یونیورسٹی سے بی بی اے کررہا ہے اور اس کے لیچکرز سارے یوٹیوب پر دستیاب ہوتے ہیں۔ وہ اور اس کے جیسے ہزاروں پچھلے دنوں خوار ہوتے رہے ہیں۔ وی یو کے مڈ ٹرم ہورہے ہیں اور لوگوں کے پاس لیکچر لینے کے لیے یوٹیوب آنلائن نہیں تھی۔ ویسے کوئی لیکچر کاپی نہیں کرواتا کہ ہر ایک کے پاس فالتو ہارڈ ڈسک نہیں ہوتی کہ کئی کئی دن انھیں دئیے رکھے۔ یو ایس بی میں وہ کرکے نہیں دیتے کہ وائرس آجاتے ہیں۔ ڈی وی ڈی بھی لوگ نہیں خریدتے کہ پیسے لگتے ہیں چناچہ پھر یوٹیوب رہ جاتی ہے پیچھے۔
    میں البتہ گانے سننے کے لیے استعمال کرتا ہوں یوٹیوب چناچہ میرے علم میں اضافہ جو بند ہوگیا تھا اب پھر کھل گیا ہے۔
    اور نماز روزہ ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہی ہے۔ حقوق العباد البتہ ذاتی معاملہ نہیں۔ اگر ہمیں یہ سمجھ آسکے کہ رب کے حقوق تو معاف کروا لیں گے بندوں کے کیسے کروائیں گے۔
    .-= دوست´s last blog ..ٹور پروجیکٹ =-.

  6. قدیر احمد: کا نہیں۔ اور انٹرنیٹ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

    (اب اس تبصرے کے جواب میں چاہے دشنام طرازی ہو جائے، میں جو کہہ سکتا تھا کہہ دیا۔)

    قدیر احمد: تلوار سے آپ کسی کافر کو جہنم رسید کر سکتے ہیں اور کسی مسلمان کی گردن بھی اتار سکتے ہیں۔
    بندوق سے آپ اپنا دفاع بھی کر سکتے ہیں اور کسی کو گن پوائنٹ پہ لوٹ بھی سکتے ہیں۔
    پتھر مار کے آپ درخت سے پھل بھی اتار سکتے ہیں اور کسی کا سر بھی پھوڑ سکتے ہیں۔
    یوٹیوب سے آپ علم بھی حاصل کر سکتے ہیں اور برائی بھی۔
    شاید آپ کو یوٹیوب سے کوئی علمی استفادہ نہ ہوا ہو، لیکن بہت سے طالب علموں کو ہوتا ہے۔
    خدارا اپنی سوچ کو تھوڑا سا وسیع کیجیے۔ اللہ نے ہمیں جو نعمتیں دی ہیں اگر ہم انہیں برے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ہمارا اپنا قصور ہے، اس نعمت کا نہیں۔ اور انٹرنیٹ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔(اب اس تبصرے کے جواب میں چاہے دشنام طرازی ہو جائے، میں جو کہہ سکتا تھا کہہ دیا۔)

    یار تو یہاں پھر ٹُر را
    وہ راہا صہیب تجھے فیس بک پہ ڈھونڈتی پھر ری
    کوئی چٹھی پتر ادھر بھی چھوڑ دو
    .-= ڈفر – DuFFeR´s last blog ..گرو گھنٹال کے چار گر (سروس پیک ون) =-.

  7. مجھے علم ہے کہ کتنے پاکستانی انٹرنیٹ سے علمی فواید حاصل کرتے ہیں اسی لیے تو انٹرنیٹ کیف چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں ،،، اور وہاں کے کمپیوٹرز میں جو علمی ویڈیوز ہوتی ہیں میرے جیسے علم دشمن تو قریب بھی پھٹک نہیں سکتے ۔۔۔

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں