Skip to content

سوویت یونین کب ٹوٹا

سوویت یونین کا ٹوٹنا ایک ایسا واقعہ تھا جو میری عمر کے اس حصے میں وقوع پذیر ہوا جس میں انسان کو صرف کھیل کود سے لگاؤ ہوتا ہے۔ گرد وپیش میں ہونے والے واقعات سے اسے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا۔

سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجوہات چاہے جو کچھ بھی ہوں، بظاہر افغانستان میں اس کی دخل اندازی ہی کو کمیونزم کی اس عظیم الشان نشانی کے انہدام کی وجہ بتایا جاتا ہے۔
افغان جہاد سے وابستہ اور بھی بہت سی باتیں ہیں۔ یار لوگ جنرل ضیا ء کو گالی دیتے نہیں تھکتے کہ اس نے افغان جنگ میں مداخلت کر کے پاکستان کو منشیات کلاشنکوف، اور جہادیوں کا تحفہ دیا۔ یہ باعث تنقید جہادی اب طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اس بات میں کتنا سچ ہے کتنا جھوٹ۔ شائد ہم اس وقت تک نہ جان سکیں گے جب تک ہماری آنکھوں پر اپنی مرضی کے رنگوں کی عینک چڑھی رہے گی۔

یار لوگ جنرل ضیا پر تنقید کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو تھے جنھوں نے افغانستان کے اندرونی حالات میں مداخلت کا فیصلہ کیا تھا اور اس مقصد کے لئے مرحوم احمد شاہ مسعود ، غالبا گلبدین حکمت یار ، برہان الدین ربانی، صبغت اللہ مجددی اوراور دوسرے افغان مراحمتی گروپوں کے نمائیندوں کو تیار کیا۔ اس تیاری کی بنیاد 1973 میں پڑی۔ ایک ذرا طویل اقتباس آپ کی خدمت میں مندرجہ بالا ربط ہی سے لے پیش کروں گا:

It is commonly believed that the root of the current insurgency began with the Soviet invasion in December 1979. This is a misperception. The war began on July 17, 1973 when Afghan President Daoud Mohamed, after having displaced the King Zahir Shah, supported insurgent Marri and Mengal Baloch in Pakistan and declared a deliberately provocative Pashtun separatist agenda against Pakistan. In retaliation that year, Pakistan President Zulfiqar Ali Bhutto, ironically a socialist with little sympathy for Islamists, instructed the Inter Services Intelligence (ISI) Agency and the Frontier Corps to provide sanctuary, training and weapons to a coterie of Islamists to begin the war against Kabul. This coterie was inspired by the famous Sayyid Qutb of al Azhar University in Cairo, led by his student, the Tajik, Burhanuddin Rabbani, and consisted of Gulbuddin Hekmatyar, Yunus Khalis and Sibghatullah Mojaddedi. Their Islamist revolt in 1975 failed, with hundreds of Islamist militants jailed and executed, with Islamist refugees fleeing to the Northwest Frontier Province (NWFP).

Pakistan decided to reorganize its support and encouraged Hekmatyar, a Gilzhai Pashtun, to break with Rabbani, and resumed its support to the Islamist resistance in Afghanistan. Concurrently Pakistan’s intelligence organizations were organizing terrorist bombings of Afghan targets in Kabul and Jalalabad. The Islamists established a permanent base in Afghanistan by 1978. With insurgents infiltrating into Afghanistan from training facilities in Pakistan, Afghan and Pakistan frontier troops occasionally clashed. One incident escalated in 1976 to involve a major re-deployment of Afghan forces against an expected Pakistani attack, and was only avoided when the Shah of Iran intervened to mediate the dispute. Following the defection of an Afghan army brigade in Heart in February 1979, resulting in the massacre of about 50 of its Russian advisors and their families, the Afghan army began a steady disintegration that led to Soviet intervention 10 months later.

Had the Soviets never intervened, Kabul would have fallen earlier to the mujahideen, perhaps in April 1982, rather than April 1992.

بہر حال، بھٹو تو شہید تھا، وہ کبھی یہ کام کر ہی نہیں سکتا، یہ سب کیا دھرا جنرل ضیا ہی کا ہے، آئیے اُس پر تبرا بھیجیں۔

اتنی طویل تمہید اس لئے باندھی کہ آج سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری میں مصروف دو ڈاکٹر صاحبان کی تاریخ یورپ پر ایک گرما گرم جھڑپ کا مشاہدہ کرنے کے بعد مجھے اپنا ایک ہم جماعت یاد آگیا۔

میں میڈیکل کالج میں جب آیا تو میں نے تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی بغل بچہ تنظیموں سے بچنے کے لئے تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنے پہلے سے موجود اور مضبوط مذہبی پس منظر کی بنا پر آگے بڑھتا چلا گیا۔ آہستہ آہستہ مجھے تشنگی کا احساس ہونے لگا اور پھر کچھ ناگوار واقعات کی بنا پر اپنی انا کے سامنے سرِتسلیم خم کر کے اس جماعت سے جُدا ہو گیا۔
بہر کیف ہمارے ساتھیوں میں ایک تو بہت ذہین اور مخلص انسان تھا۔ اُس کا جنوبی وزیرستان سے تعلق تھا۔ جہاں تک مجھے علم ہے آج کل ماہر امراض اطفال بننے میں مصروف ہے۔ ایک مرتبہ وسطی ایشیا سے ایک تبلیغی جماعت ہمارے کالج پہنچی۔ اُن کی خدمت کے دوران مجھے یہ جان کربہت حیرانی ہوئی کہ میرے اس دوست کو علم ہی نہیں کہ سوویت یونین کو ٹوٹے اب دس برس ہونے والے ہیں، اور بورس یلسن اب روس کا صدر ہے۔

اُس وقت ہم نے اس کا مذاق اڑایا۔ ایک دوست نے تو یہاں تک کہا کہ یہ تو آگے چل ہی نہیں سکتا۔ تبلیغ اور چیز ہے اور عملی زندگی اور چیز۔ مگر اس کا کہنا تھا کہ اس قسم کے علم کے نہ ہونے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
آج وہی ڈاکٹر صاحب ما شا اللہ ہم سے اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ کتنا علم انسان کے لئے ضروری ہے؟ کیا ہر فن مولا ہونا یا ہر چیز کا جاننا لازمی ہے؟

اور اس کا جواب مجھے نہیں آتا۔

12 thoughts on “سوویت یونین کب ٹوٹا”

  1. ضیاءالحق کی مخالفت کی وجہ صرف اور صرف اس کی مذہبی شناخت ہے۔ ورنہ مارشل لاء تو ایوب خان کا بھی تھا اور اسی کے نتیجے میں‌پاکستان دو ٹکڑے ہوا۔ یحیی خان تو ایک ضرب المثل بن چکا ہے۔ مشرف کا دور تو ابھی کل کی بات ہے۔ لیکن ضیاء الحق کی مخالفت آج کل کا فیشن ہے اور وجہ وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ جھوٹا یا سچا وہ اسلام کا نام لیتا تھا۔ فرض کیجیے اگر وہ مشرف جیسا روشن خیال ہوتا تو یقینا اس کے لیے ایسی نفرت کا اظہار نہ کیا جاتا، بلکہ دبے لفظوں‌میں اس کی بھی حمد و ثنا کی جاتی۔ بھٹو کی پھانسی کو نعوذ باللہ امام حسین کی شہادت تک لے کر جانے کی کوشش ہورہی ہے۔ لیکن بھٹو صاحب کے دور میں بھی جو کچھ ہوتا رہا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اپنے اپنے حصے کا ظلم کرنے کے بعد اپنے اپنے حصے کا مزا سب چکھ چکے ہیں۔
    جاتے جاتے فیشنی طور پر میں بھی جنرل ضیاء کو جنرل ضیاع لکھ کے اپنا مستقبل کا امریکہ یا کینیڈا کا ویزا پکا کرنا چاہتا ہوں۔ گاڈ بلیس امریکہ

  2. حدیث ہے کہ علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے جہاں سے ملے لے لو۔ حقیقت جاننے کے لئیے یہ حدیث ہی کافی ہے۔

  3. وہوہوہجی جو هر فن مولا هوتا هے وه کسی بھی فن کا مولا نهیں هوتا هے
    جس طرح که میں
    ڈاکٹر صاحب ٹھیک تھے

  4. منیر بھائی
    ایک مرتبہ ایک فورم پر یہ بحث پڑھنے کا اتفاق ہوا
    جس میں یہ کہا گیا کہ علم اور الم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جو علم میں جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی الم اور تفکرات میں دھنستا ہے۔جو جتنا کم جانتا ہے اتنی ہی پرسکون نیند سوتا ہے۔ لیکن یہاں‌ نہ جاننے سے یہ مراد بالکل نہیں کہ ضروری دینی علوم بھی نہ ہوں۔ یعنی باتیں‌جن سے اس کا لینا دینا نہیں ان میں سر نہیں گھساتا۔
    میرا اگرچہ اس پوائنٹ سے تھوڑا اختلاف تھا۔ میرے نزدیک اگر علم خدا پر توکل اور بھروسے کے ساتھ ہو تو الم سے مقابلہ کرنے کا ٹول بن جاتا ہے۔
    لیکن ہر فن مولا ہونا بالکل بھی لازمی نہیں۔ میں میڈیکل کے فائنل ائیر کا سٹوڈنٹ ہوں لیکن میرا انٹرسٹ باقی فیلڈز میں‌ بھی ہے۔ اور ان کے بارے میں‌اپنے شوق سے پڑھتا ہوں۔

  5. غلام مرتضیٰ علی Ghulam Murtaza Ali

    بے شک زمانے کا چلن یہی ہے کہ ہر برائی کا الزام مرحوم ضیا الحق پر دھر کے خود پاک صاف قرار پائیں۔ یہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ جب سردار داود نے پشتونستان کا شوشا چھوڑا تو جوابا بھٹو مرحوم نے (جنھوں نے اپنے بلوچ ہموطنوں کو بھی معاف نہ کیا تھا اور بلوچستان پر فوج کشی کی تھی) افغانستان کا بازو مڑورنے کی پالیسی اپنائی۔ اپنے بہنوئی ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر برسرا قتدار آنے والا یہی سردار داود جب بعد میں دشمنوں میں گھر گیا تو ضیا دور کے شروع میں پاکستان سے مدد کا طالب ہوا۔ لاہور آیا اور شالامار باغ میں پاک افغان اخوت کا راگ الاپا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
    ضیا الحق کی صرف برائیاں بیان کی جاتی ہیں اس کی اچھائیوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ یہ ضیا ہی تھا جس نے بلوچستان سے فوج واپس بلا کر اور وہاں کے سرداروں سے مذاکرا ت کر کے وہاں جاری بغاوت کو ختم کیا تھا۔ اسی ضیا نے بھٹو کے سیاسی انتقام کا شکار بہت سے لوگوں کو رہائی دلائی۔ جن میں حیدر آباد ٹریبونل والے ولی خان اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے۔ ان دنوں آصف زرداری کے والد صاحب بھی بھٹو کے مخالف اور ولی خان کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی سندھ شاخ کے سربراہ تھے۔ آجکل بھٹو کے اکثر مخالفوں اور ضیا کے اکثر حامیوں اور حاشیہ برداروں بشمول وزیر اعظم گیلانی نے بھٹو ازم کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہے۔
    میں ضیا کا حامی نہیں ہوں لیکن میں سمجھتا ہو ں کہ ابھی تک اس کے بارے میں درست تاریخی رائے قائم نہیں کی جاسکی۔مجھے لگتا ہے کہ اپنے مخالفین کے خلاف تمام تر آمرانہ اقدامات اور ظلم و ستم کے باوجود اس نے پاکستانی عوام کی خاموش اکثریت کے جذبات اور امنگوں کو، زبانی کلامی اور کاغذی طور پر ہی سہی، صدا بخشی۔ اس کا طریقہ کار غلط ہو سکتا ہے لیکن اس کی نیت کا حال صرف اللہ کریم ہی جانتا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ اگر ضیا الحق کی پالیسیاں غلط تھیں تو بعد میں آنے والی تین پی پی حکومتوں نے انھیں تبدیل کیوں نہ کیا۔ ضیا کی داخل کردہ درجنوں آئینی ترامیم بشمول قرار داد مقاصد کی باقاعدہ آئینی حیثیت آج بھی آئین کا حصہ ہیں۔ اٹھارویں ترمیم والے بیشتر نام نہاد روشن خیالوں، سیکولروں اور سوشلسٹوں، (در اصل مفاد پرستوں) کودو تہائی اکثریت حاصل ہونے کے باوجود، سوائے ضیا کا نام آئین سے نکالنے کے اور کچھ کرنےکی ہمت ہوئی نہ توفیق۔ الٹا انھوں نے ایک ترمیم کے ذریعے وزیر اعظم کے مسلمان ہونے کی شرط بھی آئین میں شامل کر دی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ مرنے کے چوبیس برس بعد بھی ضیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اسی ضیا نے بے نظیرمرحومہ کو دوپٹہ پہننے پر مجبور کر دیا ورنہ اصل بے نظیر کی تصاویر دیکھنی ہوں تو شملہ معاہدے کے موقعے پر پر یہاں دیکھیے۔ یہ پی پی کی ایک سرکاری ویب سائٹ ہے۔
    http://www.bhutto.org/simla-agreement.php
    علم کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب کوئی ڈھائی پونے تین سو سال قبل بابا بلھے شاہ نامی صوفی بزرگ یوں دے گئے ہیں۔ یہ آسان پنجابی کلام اردو دانوں کے لیے سمجھنا مشکل نہیں۔ اسکا ٹیپ کا مصرع تو اردو میں بھی عام مستعمل ہے :
    عِلموں بس کریں او یار! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اِکّو الف ترے درکار
    عِلم نہ آوے وچ شُمار! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاندی عُمر، نہیں اِعتبار
    اِکّو الف ترے درکار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عِلموں بس کریں او یار!
    عِلموں بس کریں او یار!
    پڑھ پڑھ لکھ لکھ لاویں ڈھیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈھیر کتاباں چار چوپھیر
    گِردے چانن وچّ انھیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پُچھّو: “راہ؟“ تے خبر نہ سار
    عِلموں بس کریں او یار!
    پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُچیاں بانگاں، چانگاں ماریں
    مِنبر تے چڑھ، وُعظ پُکاریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیتا تینوں علم خوار
    عِلموں بس کریں او یار!
    عِلموں پئے قِضیّے ہور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اکھّاں والے انّھے کور
    پھڑدے سادھ، تے چھڈن چور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دو ہِیں جہانِیں، ہون خوار
    عِلموں بس کریں او یار!
    پڑھ پڑھ شیخ مشائخ کہاویں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُلٹے مَسلے گھروں بناویں
    بے عِلماں نوں لُٹ لُٹ کھاویں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھوٹے سچے کریں اقرار
    عِلموں بس کریں او یار!
    پڑھ پڑھ مُلاں ہوئے قاضی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ عِلماں باجھوں راضی
    ہووے حرص دنوں دِن تازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تینوں کیتا حرص خوار
    عِلموں بس کریں او یار!
    پڑھ پڑھ مسئلے پیا سناویں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھانا شکّ شُبھے دا کھاویں
    دسیں ہور تے ہور کماویں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندر کھوٹ باہر سُچیار
    عِلموں بس کریں او یار!

  6. تقریباً ہر سال روس جانا ہوتا ہے۔
    مجھے تو کسی روسی نے یہ نہیں کہا کہ افغانستان جہاد پاکستان نے لڑا۔
    ہاں یہ ضرور کہا کہ امریکہ نے پاکستان کی زمین استعمال کرکے افغانستان میں مداخلت کی۔

  7. ويسے تو اللہ کی مقرر کردہ راہ پر نہ چلنے والوں کا ازل سے يہ دستور رہا ہے کہ حقائق کو نہ صرف مسخ کيا جائے بلکہ جھوٹ بار بار بولا جائے اتنا اور اتنی بار کہ لوگوں کے ذہن اُسے سچ سمجھنے لگيں مگر ہمارے مُلک ميں جو حال ہے اُسے ديکھ کر يوں محسوس ہوتا ہے کہ يہاں ہر کوئی تيزی سے بلندی پر پہنچنے کی کوشش ميں گہری کھائی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے
    ضياء الحق کو آمر کہنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو 6 مرزائی جرنيل جن ميں سے 4 برّی فوج کے تھے اور 2 ہوائی فوج کے برسرِ اقتدار لے کر آئے اور اس کيلئے مشرقی پاکستان کی قربانی دے دی ۔ سقوطِ ڈھاکہ 16 دسمبر 1971ء کو ہوا مگر يحیٰ خان 12 دسمبر 1971ء سے غائب تھا [وہ گرفتار ہو چکا تھا]
    ذوالفقار علی بھٹو کو يحی خان نے اقوامِ متحدہ نہيں بھيجا تھا اور يحیٰ خان اپنا فيصلہ مجيب الرحمٰن کے حق ميں دے چکا تھا
    پھر جب صرف مغربی پاکستان ميں 33 فيصد ووٹ لينے والا ذوالفقار علی بھٹو حکمران بن گيا تو وہ صدر اور چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر بنا ۔ دنيا ميں آج تک ذولفقار علی بھٹو کے سوا کوئی سويلين چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر نہيں بنا
    ضياء الحق بہت بُرا اسلئے کہ جتنی درست اسلامی تعليمات کی ترويج اُس کے دور ميں ہوئی ۔ اس سے آدھی بھی کسی اور دورِ حکومت ميں نہيں ہوئی
    ضياء الحق اسلئے بُرا ہے کہ اس کے دورِ حکومت ميں اشياء خورد و نوش کی قيمتيں کم ہوئيں اور پھر 10 سال نہ بڑھيں
    وہ واحد حکمران تھا کہ کسی بڑے سے بڑے مُلک کے حاکم کے ساتھ اول تو ايسی ميٹنگ رکھتا ہی نہ تھا کہ بيچ ميں نماز ضائع ہو جائے اور اگر ميٹنگ رکھنے کی کوئی مجبوری ہو تو نماز کے وقت يہ کہہ کر اُٹھ جاتا کہ “ميں نے نماز ادا کرنا ہے”

  8. اگر ضیا الحق نہ آتا تو یقینا ہم اخلاق باختگی کے حوالے سے پرانے ایران اور موجودہ بنکاک و بیروت کے برابر کھڑے ہوتے-

    جب پولینڈ سے پوچھا گیا کہ روس نے اتنی آسانی سے آپ کے ملک پر قبضہ کیسے کرلیا تو اس نے جواب دیا کہ ہمارے پڑوس میں کوی پاکستن نہیں تھا

    علی

  9. حوالہ دینا مشکل ہے، میں نے اردو ڈایجسٹ میں پڑہا تھا’ اور کی سال ہو گے ہیں’ گو کہ اردو ڈایجسٹ کے تمام شمارے محفوظ ہیں مگر اس حوالے کو ڈھونڈنا ایک مشکل کام ہے-
    لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت اہم حوالہ ہے ‘ تو کوشش کر لیتا ہوں-

  10. ؑعمار ادریس

    اگر جنرل ضیاء نہ آتا تو آج پاکستان بھی سوشلزم بن چکا ہوتا
    لبرل ازم کو جنرل ضیاء کی اسلامی تعلیمات ہضم نہیں ہو رہی۔۔۔

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں