Skip to content

ذرا نیا مگر، پرانا پاکستان،۔۔

الیکشن 2013 کے نتائج آپ کے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس وقت تک مسلم لیگ نواز 86 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی میں سر فہرست ہے۔ اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین اور پاکستان تحریک انصاف بالترتیب 19 اور 17 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ صورت حال وہ تو نہیں جس کا خواب بہت سے لوگوں نے دیکھا ہوگا۔ الیکشن سے پہلے میں نے بھی کچھ اندازے لگائے تھے۔ کافی لوگوں کے ساتھ بات چیت کے دوران میں نے یہ بات یقین سے کہی تھی کہ اگلی انے والی پارلیمنٹ معلق ہوگی۔ تقریبا ساری قومی سیاسی جماعتوں کو ووٹ ملیں گے اور ان کی متناسب نمائندگی کی وجہ سے پارلیمنٹ معلق بنے گی۔ مگر اب تک کی صورت حال جو تصویر بنا رہی ہے وہ کافی حیران کُن ہے۔ مسلم لیگ ن کو اتنی واضح برتری کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مسلم لیگ نواز اتنی واضح برتری کے ساتھ سامنے آئے گی۔

ان انتخابات میں کافی متوقع اور غیر متوقع نتائج سامنے آئے۔ اسفندیار ولی کی شکست ایک حد تک متوقع ہی تھی، مگر بلور خاندان کو ان کے اپنے گھر میں شکست دینا یقینا ایک غیر متوقع نتیجہ۔ جنوبی پنجاب میں پی پی پی کو وہ نتائج نہ ملے جو ملنے چاہئیں تھے۔ پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کارکردگی کے بعد بھی اب اگر کوئی فتح کی توقع رکھتا تو حیرانی ہوتی۔ بہر حال ایک بات اچھی یہ ہوئی کہ عوام جوق در جوق نکلے اور انھوں نے دل کھول کر ووٹ دیا۔ اعظم خان سواتی اگرچہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑ رہے تھے، مگر اپنے کردار کی وجہ سے شائد ہار گئے۔ ایبٹ آباد میں ڈاکٹر اظہر خان جدون نے ترانوے ہزار سے کچھ زیادہ ووٹ لے کر سردار مہتاب عباسی کو ہرا دیا۔ جہاں راولپنڈی میں شکیل اعوان کو شیخ رشید کےمقابلے میں اس لئے شکست ہوئی کہ انھوں نے ، مبینہ طور پر ، اپنے حلقے میں کوئی کام نہیں کرائے اور عوام سے دور دور ہی رہے، وہاں خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ باوجود اس کے کہ انھوں نے اپنے علاقے میں بہت اچھے ترقیاتی کام کروائے تھے، ہار گئے۔

امیدواروں کی جیت کی وجوہات کچھ بھی ہوں، برادری کا ووٹ ہو یا کوئی اور وجہ ہو، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ مستقبل کی پیش بندی کی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا موقع مل گیا اور ان کے لئے اگلے انتخابات میں جیتنے یا ہارنے کے لئے ایک موقع مل گیا ہے۔ دیکھیں ، یہ حکومت بنا کر کیا کرتے ہیں۔ صوبہ میں پہلے سے ہی شورش ہے۔ تحریک طالبان پاکستان پہلے سے ہی منڈلا رہی ہے اور اب تک تو کوئی اس کو قابو کرتا نظر نہیں آیا۔ پی ٹی آئی کے پاس کیا گیدڑ سنگھی ہوگی ان کو قابو کرنے کے لئے۔

مجھے امید ہے، کہ نواز شریف صاحب نے ان انتخابات سے کچھ سبق سیکھا ہوگا پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے جیسے حکومت کی وہ سب کے سامنے ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت میں دو اصطلاحات بہت مشہور ہوئی تھیں۔ اول ایزی لود اور دوم ایس ایم ایس۔ امید ہے اس شارٹ کٹ کے ذریعے مال پانی نہیں بنایا جائے گا۔ اس مرتبہ وہ تحمل مزاجی سے حکومت کریں گے اور عوام کی فلاح بہبود کے لئے کچھ عملی اقدام اٹھائیں گے۔ امید ہے کہ بجلی کے مسئلہ پر ان کی سوئی کالا باغ ڈیم میں ہی نہیں اٹکے گی۔ فوج کے ساتھ بلاوجہ پنگے بازی نہیں کریں گے حال آنکہ آئین کے مطابق ۔۔۔۔ خیر آئین تو کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔۔

گزشتہ ایک دو انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام زیادہ عقل اور سمجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور باقی پاکستانی عوام کے مقابلے میں سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالتے ہیں۔ 2002 کے انتخابات میں ایم ایم اے نے امریکہ مخالف جذبات کی سونامی پر تیرتے ہوئے انتخابات میں کلین سویپ کیا تھا۔ 2008 میں ان کی کارکردگی کی بنا پر عوام نے ہی ان کو مسترد کر دیا۔ 2008 میں عوامی نیشنل پارٹی امن کا نعرہ لگا کر سامنے آئی اور عوام نے ان کو موقع دیا۔ اے این پی نے پی پی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور پھر کرپشن کی سونامی نے صوبے کو لپیٹ میں لے لیا۔ امن؟ امن کی بات کون کرتا تھا؟ امن بحال ہونے کی بجائے حالات اور بگڑ گئے۔ جتنی اموات، جتنے بم دھماکے اس دور میں ہوئے کسی دور میں نہیں ہوئے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ سوات کے افصل خان لالا جو ابھی ہی شائد ہٹ لسٹ پر ہیں سے لے کر سابق صوبائی وزیر اطلاعات کے بیٹے تک جنھیں نشانہ بنایا گیا، عوامی نیشنل پارٹی نے قربانیاں دیں۔سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کو گیارہ ہزار سے کچھ زیادہ ووٹ ملے اور ان کے حریف ، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے 25 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔۔ مگر اب انسان یہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ قربانیاں دیں تو سہی، مگر کس لئے؟ اقتدار کے لئے یا امن کی خاطر؟ حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نظر نہ آئی۔ اور یوں 2013 کے انتخابات میں عوام نے ان کو مسترد کر دیا۔

خیبر پختون خوا کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف پر اب بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مگر ۔۔ کیا واقعی پاکستان جیسے ممالک میں انتخابی نمائندوں کے پاس مکمل اختیار ہوتا ہے؟

مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اکثر پرانے سیاست دان ہیں۔ اور یہی پرانے کھلاڑی اب واپس اپنے گراؤنڈ میں پہنچ گئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اب کی بار یہ لوگ اپنے پیٹ کی فکر کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام کی بھی کچھ فکر کریں گے۔۔ تبدیلی آئی ہے ، مگر آہستہ آہستہ۔۔ پی ٹی آئی والوں کو نا امید ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کے پاس ایک زریں موقع ہے خیبر پختون خوا کی حکومت کی صورت میں۔ وہ اپنے اپ کو اہل ثابت کریں تو اگلے انتخابات میں وہ انشا ء اللہ زیادہ کامیابی ہوسکتے ہیں۔

ہر خرابی میں کوئی نہ کوئ بھلائی چھپی ہوتی ہے۔

5 thoughts on “ذرا نیا مگر، پرانا پاکستان،۔۔”

  1. رضوان کیانی

    پاکستان کے عام شہری کی حیثیت سے اور کسی سیاسی وابستگی کے بغیر میری رائے میں اس اتخابات میں موجودہ حالات میں بہترین نتائج سامنے آئے. تبدیلی کبھی بھی یکدم نہیں آتی اور اگر آتی ہے تو خونی انقلابساتھ لاتی ہے. ایک بتدریج اور آھستہ تبدیلی زیادہ دیرپا ہوتی ہے کیونکہ یہ عوام کو اس میں ڈھلنے میں مدد دیتی ہے. عمران خان یہ تبدیلی لانے میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا ہے.
    میں آغاز انتخابی مہم سے کرونگا.ہمارے روایتی سیاستدانوں کو اب احساس ہو چکا ہے کہ اب وقت تبدیل ہو چکا ہے اور اب جھوٹے وعدوں اور لوٹی ہوئی دولت سے عوام کو بہلایا نہیں جا سکتا. عوام بڑی تعداد میں گھروں سے نکلے اور کارگردگی کی بنیاد پر ووٹ ڈالے.پی پی پی ، اےاین پی اور ق لیگ کی ناکامی اس کی واضح مثال ہیں. اس کے علاوہ ہمارے سیاسی نظام میں دو پارٹیوں کی اجارہ داری ختم ہو گئی اور پچھلی کچھ دہایؤں سے جاری میوز یکل چیر اپنے انجام کے نزدیک پہنچ گئی.اب ہمارے پاس تحریک انصاف کی صورت میں متبادل موجود ہے جو ملک کی دوسری بڑ ی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے ۔ تحریک انصاف کے پاس خیبر پختونخواہ کی صورت میں ایک م موقع موجود ہے جہاں وہ ایک مثالی حکومت بنا کر باقی ملک پر یہ ثا بت کر سکتے ہیں کہ انھوں نے تحریک انصاف کو منتخب نہ کر کے غلطی کی ہے. مگر یہ کام تحریک انصاف کے لیے آسان نہیں ہو گا. نواز لیگ کے پاس ابھی اتنا منڈیٹ ہے کہ وہ ایم کیوایم ، جے یو آئی اور اس طرح کی دوسری پارٹیوں کی بلیک میلنگ سے بالا تر ہو کر اپنی کارکردگی دکھاسکتی ہے اور اس کے ساتھ ان پر نہایت دباؤ ہو گا کہ اپنی اہلیت ثابت کر سکیں ۔ اگر وہ ناکام ہو گے تو انکا حشر پی پی پی سے بھی برا ہو گا. اسکے علاوہ پی پی پی اندرون سندھ تک محدود ہو گئی ہے اور پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے اسکا صفایا ہو گیا ہے. ق لیگ بھی اپنے انجام تک پہنچ گئی ہے اور ایم کیو ایم کراچی اور حیدر آباد میں محصورہے اور وفاقی حکومت میں شاید اسکا زیادہ کردار نہ ہو. شاید یہ پہلی بار ہو کہ ایم کیو ایم کو ہم اپو ز یشن میں دیکھیں ۔ ہماری روایتی سیاست کے بڑیے بڑے برج گر گئے ہیں اور انھیں یہ سبق ملا ہے کہ اب کامیاب ہونے کے لیے انھیں کارکردگی دکھانا ہوگی.مستقبل قریب شاید ہمیں بہت تابناک دکھائی نہ دے مگر یہ تبدیلی کا آغاز ضرور ہے ۔ یہ تبدیلی جاری رہے گی اگر ہم عوام اس کا حصّہ رہیں گے اور اسکی حمایت جاری رکھیں گے. لیکن یہ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو گی جب ہم ہر ناکامی کا مورد الزام حکومت کو ٹھہرانا چھوڑ دیں گے اور خود ذمہ دار شہری بنیں گے.
    الحمدللہ میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ ہمیں امید کی کرن دکھائی ۔ میں ہمیشہ اور أج بھی پاکستان کے روشن اور تا بناک مستقبل کے لیے پرامید ہوں ۔ ہمیں اپنے غیر ذمہ دار میڈیا اور رجعت پسند افراد کی طرح مایوسی پھیلا کر اپنے ملک کو ناکام ریاست ثابت کرنے سے گریز کرنا چاہئیے ۔ اس عظیم ملک نے بہت برے حالت دیکھے ہیں لیکن اسکے باوجود وہ قائم دائم ہیں. ایسسے حالت شاید دنیا کے بہت سے مضبوط ممالک کو تباہ کر دیتے مگر یہ ملک پھر بھی زندہ حقیقت ہے.
    ہمیں مل کر مایوسی کی بجاءے امید پھیلانی چاہئیے. الیکشن سے خامیوں کی بجانے خوبیاں تلاش کرنی چاہیں ۔انتخابات کے نتائج شا ید ہماری خواھشات کے مطابق نہ ہوں مگر اللہ کا ہمارے مسائل حل کرنے کا انداز شاید ہماری محدود عقل اور ادراک سے بالاتر ہو. یہ وقت نئے پاکستان کے اختما م کا نہیں شروعات کا ہے. اپنے پاکستان کے لیے امید کا دامن نہ چھوڑیں اور ایک نئے اور تابناک مستقبل کے لیے جد و جہد جاری رکھیں. اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو. آمین

  2. میں تو سمجھا آپ نے بلاگ لکھنا ہی چھوڑ دیا
    اکاؤنٹ بند کر دیا کم سے کم کوئی فین پیج ہی بنا کے چھوڑ دیں کہ فیڈ نظر آتی رہے
    پر جی دل عش عش کر را ان انتخابات پہ تو
    لگتا ہے عمران خان کو کے پی کے میں حکومت بھی اس لئے دے دی کہ اس کو پھنساؤ اس دلدل میں، اور باقی جگہ رج کے لٹو مہم جاری رکھو۔ فخرو بھائی کی ”کامیاب شفاف اور آزادانہ انتخابات کرانے“ والی بات بہرحال ہنسی اور مایوسی ختم نی ہونے دیتی

    1. آپ لوگ فیس بک اور ٹوٹر سے نکلیں تو پتہ چلے نا۔ اردو سیارہ سے بھی تو میں نے درخواست دے دی تھی۔ اور آپ نے ہی مخالفت کی تھی۔

      بہر حال عمران والی بات پہ میرا بھی دل آیا ہوا وا ہے۔ میں ابھی اسی پر ایک عدد پوسٹ لکھنے والا تھا، مگر یہ کمبخت ناول جان نہیں چھوڑ رہا۔

      اسے ختم کروں تو کچھ لکھوں۔

      بلاگ فیڈ موجود ہے اگر اپ اس کو سبسکرائب کر سکیں ۔۔

      http://feeds.feedburner.com/tiflemaktab

  3. اردو سیارہ والی کونسی بات؟
    اور فیس بک پیج تو کسی سے بھی بنوا لیں، آجکل وہ ایک پیج بنا بلاگ فیڈز کا اس میں ساروں کی فیڈیں شامل کر رہے وہ، وہاں دے دوں آپ کا نام پیج بنانے کی بھی ضرورت نی رہنی

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں