Skip to content

حاجی مسلم خان کے نام مکتوب

سوات کےطالبان کے ترجمان اور ان کے کچھ ساتھیوں کی گرفتاری سے تو آپ واقف ہی ہو چکے ہوں گے۔ اس بات سے قطع نظر کون سچا تھا ، کون جھوٹا تھا، کون ظالم نکلا کون مظلوم بنا، مجھے اس بات پر حیرت ہوئی جب میں نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت بی بی سی اردو پر ایک کالم پڑھا۔  اس کالم کے مصنف بی بی سی اردو  کے پشاور سے نمائندے، عبدالحئی کاکڑ تھے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مذکورہ بالا تحریر پڑھ کر مجھے شدید مایوسی ہوئی۔  کیا اب خبری مواد کی اتنی قلت ہو گئی ہے کہ یہ نمائندے اور یہ نشریاتی ادارے اب اپنے ذاتی بدلے چکاتے پھریں گے؟ مجھے بی بی سی اور عبد الحئی کاکڑ سے اس قسم کی اخلاق سے گری ہوئی حرکت کی توقع ہر گز نہ تھی۔  ان لوگوں نے تو اس ذریعے کو ذاتی دشمنیاں اتارنے کا وسیلہ بنا لیا ہے۔ دیکھیں کل کونسا نامہ نگار کس کی تضحیک کرتا نظر آئے گا۔

میں نے اپنی مایوسی کا اظہار بی بی سی کو تحریری صورت میں روانہ بھی کر دیا ہے، دیکھیں کیا جواب آتا ہے۔

14 thoughts on “حاجی مسلم خان کے نام مکتوب”

  1. جناب یہ چلن بہت عام ہے۔۔ خاص کر اردو کالم لکھنے والے اس معاملے میں بہت آگے ہیں جہاں اصل خبر اور واقعات کے بجائے کیچڑ اچھالنے کا کام بحسن خوبی کیا جاتا ہے۔ بلکہ اردو کے چند معروف کالم نگار تو اپنے پلاٹ اور پرمٹ کے تمام مسائل بھی کالم کے ذریعے ہی حل کرتے ہیں۔

  2. حیرت کی بات ہے کہ آپ کو بی بی سی سے اب مایوسی ہوئ۔ بی بی سی اپنی رپورٹنگ میں اکثر وبیشتر انتہائ جانبدار روئیے کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اور اس بات سے کون واقف نہیں کہ پاکستان میں انکا ایجنڈا کیا ہے۔
    .-= عنیقہ ناز´s last blog ..بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی =-.

  3. مجھے سمجھ نہیں آئی اس میں ذاتی عناد کا پہلو کہاں ہے اور ویسے بھی یہ کالم نہیں اور نہ ہی خبری مواد ہے یہ بلاگ ہے اس کی ٹون بی بی سی کی ایڈیٹوریل پالیسی سے الگ ہوسکتی ہے.

  4. اسماء پيرس

    بھائی صاحب يہ دنيا چزھتے سورج کی بجاری ہے ابھی پتہ چلے کہ حکومت نے اسے باعزت رہا کر ديا ہے تو پھر بی بی سی کا پلٹا ديکھيے گا

  5. بی بی سی کو میں نے کبھی فعال ادارہ نہیں سمجھا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ستمبر 1965ء میں امرتسر میں بنی ہوئی مووی فلم کو یہ کہہ کر پیش کیا تھا کہ بھارتی فوجی لاہور انارکلی میں پھر رہے ہیں
    .-= افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..کیا مذاق صرف مسلمانوں کا اُڑانا جائز ہے ؟ =-.

  6. جی راشد:: پاکستانی اردو اخباروں کی تو بات نہ کیجئے، معدودے چند کے سوا جو بھی صحافی بنتا ہے ، اکثر اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتا پایا جاتا ہے۔

    عنیقہ :: اب کی بات نہیں، بی بی سی نے بہت مرتبہ پاکستانی عوام کو مایوس کیا ہے۔ ان کا اصل ایجنڈا ہر بر سر اقتدار پارٹی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بالعموم اور پاکستان کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بالخصوص تقویت دیا ہے، مگر جس طرح آخری چند سطور میں عبدالحئی کاکڑ نے مسلم خان پر طنز کیا ہے ، ایسی گری ہوئی حرکت پہلی مرتبہ دیکھی ہے ۔

    نعمان :: جی بالکل یہ ایک بلاگ ہے اور بی بی سی کی ادارتی پالیسی سے اس کا موافق ہونا ہر گز ضروری نہیں، مگر یہ بھی تو دیکھئے مصنف کون ہے اور اس کا بی بی سی سے کیا رشتہ ہے۔

    اسما ٗ:: اس کے رہا ہونے کا تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مارا جائے گا ۔

    افتخار اجمل صاحب :: جی آپ درست کہتے ہیں، بی بی سی ایک ناقابل اعتبار ادارہ ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کا کوئی متبادل بھی تو نہیں ہے۔

  7. بی بی سی اسلام دشمن اور پاکستان دشمن نیوز نیٹ ورک ہے جس کا کام صرف اور صرف پراپیگنڈا کرنا ہے۔ ان سے یہی توقع کی جا سکتی ہے!
    .-= سعد´s last blog ..شیخ صاحب اور فقیر =-.

  8. ارشاد علی

    متعلقہ مضمون میں نے بھی “اپنے پانچ ساتھیوں سمیت” پڑھی اور سب نے اُسکو پسند کیا. پسند کرنے کی وجہ سب یہ بتا رھے ہیں کہ کاکڑ ساحب نے مکتوب میں کوئی فرضی یا جھوٹ پر مبنی بات نہیں کی ہے.
    میرے پانچ میں سے ایک دوست نے مکتوب میں بیان کی گئی ایک ایک بات کی صحیح ہونے کا یہ ثبوت دیا کہ جس شعر نے مسلم خان صاحب کو ہنسایا تھا. وہاں ہم سب بھی بے ساختہ ہنسے. لہٰذٰ مکتوب اور مصنف پر ہونے والی تنقید کو سامنے رکھتے ہوئے میں بھی اکبر اٰلہ آبادی کا ایک شعر عرض کرتا چلوں.

    حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں

    کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا “اِس زمانے” میں

  9. ارشاد علی

    سعد: بی بی سی اسلام دشمن اور پاکستان دشمن نیوز نیٹ ورک ہے جس کا کام صرف اور صرف پراپیگنڈا کرنا ہے۔ ان سے یہی توقع کی جا سکتی ہے!

    لو جی. ایک بار پھر:

    امیرِ شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
    کبھی بہ حیلہء مذہب کبھی بنامِ وطن

  10. ارشاد :: بات کسی چیز کے درست یا غلط ہونے کی نہیں ہے. مجھےتو بنیادی طور پر عبدالحئی کاکڑ کا وہ طنز برا لگا جو انھوں نے تحریر کے آخر میں مسلم خان پر کیا. اگر مسلم خان کی وہ بات اتنی ہی بری لگی تھی موصوف کو، تو اچھا ہوتا وہ اس بات کاذکر اُس وقت کرتے جب مسلم خان اور طالبان اپنی طاقت کے عروج پرتھے.

    اب جب کہ یہ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لئے چھپتے پھر رہے ہیں، اس طرح کا کسی قسم کا کوئ طنز ماضی کے کسی بھی حوالے سے اچھا نہیں لگے گا.

  11. اردو کالم نگار صرف؟ بلاگران کا کوئی ذکر خیر ہی نہیں؟

    راشد کامران: جناب یہ چلن بہت عام ہے۔۔ خاص کر اردو کالم لکھنے والے اس معاملے میں بہت آگے ہیں جہاں اصل خبر اور واقعات کے بجائے کیچڑ اچھالنے کا کام بحسن خوبی کیا جاتا ہے۔ بلکہ اردو کے چند معروف کالم نگار تو اپنے پلاٹ اور پرمٹ کے تمام مسائل بھی کالم کے ذریعے ہی حل کرتے ہیں۔

    .-= DuFFeR – ڈفر´s last blog ..تک پتر لالہ میرا شارجہ ہوند ای =-.

  12. ڈفر :: ہم اردو بلاگرز ویسے ہی بیچارے ہیں ایک دوسرے کو پڑھتے ہیں۔۔ لڑتے جھگڑتے ہیں لیکن پھر دوست ہوجاتے ہیں۔۔۔ اتنا اثر رسوخ کہاں کہ پلاٹ اور پرمٹ‌بلاگ کے ذریعے نمٹا سکیں (:

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں