Skip to content

اے وے میرے پیر دی جگنی جی

یہ تحریر اس بلاگ پہ سب سے پہلے پچیس اپریل سن دو ہزار بارہ کو شائع ہوئی ۔ آج اس کی تدوین اور یوٹیوب کے لنکس کی درستگی کے بعد دوبارہ شائع کیا گیا۔

آپ نے عارف لوہار کا گایا ہوا یہ گانا تو سُنا ہوگا۔ موسیقی کی اس صنف کو جگنی کہا جاتا ہے اور عارف لوہار کے مرحوم والد عالم لوہار کی شہرت کی وجہوات میں ایک ایسی ہی جگنی بھی ہے ۔آگے جانے سے پہلے ایک مرتبہ اگر اس تازہ ترین جگنی کو ایک مرتبہ پھر سُن اور دیکھ لیا جائے تو کیا مضائقہ ہے؟

جگنی ہے کیا؟


نومبر 2010 میں‌ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عارف لوہار نے دعویٰ‌ کیا تھا کہ جگنی کے مؤجد ان کے مرحوم والد ہیں مگر انٹڑنیٹ پر ذرا سی تلاش سے علم ہوا کہ جگنی کی ابتدا اتنی ہی مبہم ہے جتنی کہ علاقائی گانوں / داستانوں‌کی ہو سکتی ہے۔ جگنی کی ابتدا کیسے ہوئی اس بارے کوئی نہیں‌جانتا مگر ایک عام تاثر یہ ہے کہ 1906 میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو مراثیوں نے سب سے پہلے جگنی گائی تھی۔ ان میں‌ایک مسلم تھا اور ان دونوں‌کا تعلق امرتسر سے تھا۔ 1906 میں برطانوی ملکہ کی بادشاہت کے پچاس سال مکمل ہونے پہ انگریز ہندوستان میں‌جگنی لائے۔ یہ جگنی در اصل وہ شمع تھی جو پچاس سالہ بادشاہت کے مکمل ہونے پر برطانیہ کے زیر تسلط علاقوں میں‌پھرائی گئی۔ یعنی گولڈن جوبلی کی قندیل۔ ان دونوں‌مراثیوں‌ نے اس شمع کو جگنی سمجھا اور اس موقع پر ہونے والے ایک پروگرام میں اپنا ایک نیا گانے کا انداز پیش کیا اور اس کو گولڈن جوبلی کی تقاریب کی مناسبت سے جگنی کا نام دیا۔

وکی پیڈیا کیا کہتا ہے؟

وکی پیڈیا کے مطابق جگنی کا لغوی مطلب جگنو کی مؤنث ہے۔ مگر مدن گوپال سنگھ نے متذکرہ بالا قصے پر اعتراض‌کیا ہے اور ان کے نزدیک اس ساری کہانی کی اہمیت صرف ایک کہانی کی ہی ہونی چاہئے۔ کیونکہ جگنی کی ہئیت سے کہیں‌ظاہر نہیں‌ہوتا کہ اس کا تعلق برطانوی سامراج کے خلاف یا حق میں‌کسی قسم کے اظہار خیال سے ہے۔ ان کے نزدیک جگنی کی صنف ایک بے چین مونث روح کی تصویر کشی ہے جو ہر وقت سفر میں‌رہتی ہے اور حالات کا مشاہدہ کرتی رہتی ہے۔ یہ طرز ایک ایسے مبصر کا روپ ہے جس کو اپنے آس پاس کے حالات سے دلچسپی رہتی ہے۔
اگر اس تعریف کو دیکھا جائے تو پھر عارف لوہار کی جگنی کی جگہ سکھ گلوکار ربی شرگل کی گائی گئی جگنی زیادہ مناسب لگتی ہے۔


پھر؟ مگر عالم لوہار نے تو کچھ اور گایا تھا؟ اللہ بسم اللہ میری جگنی؟ اس کا کیا مطلب تھا؟ میرے خیال میں‌جگنی پنجاب کی گائیکی کی ایک مشہور صنف تھی اور اس کو اپنے اپنے انداز سے مختلف گلوکاروں نے متعارف کرایا۔ چونکہ یہ ایک ایسی صنف ہے جس کے آغاز کے بارے میں‌ابہام بہت ہے ، اس لئے اس کے ساتھ وہی ہوا جو کہ علاقائی گانوں‌کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ عالم لوہار نے اس جگنی کو مشرف بہ اسلام کرڈالا۔ اور یوں‌ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں‌ان کا نام پھیل گیا۔ اور مجھے اس پر کوئی اعتراض‌نہیں۔ مگر کیا ہر چیز کو مشرف بہ اسلام کرنا ضروری ہے؟ اس سوال کا جواب سوچئے اور عالم لوہار کی جگنی سنئے۔ عارف لوہار سے اچھی آواز تھی ان کی۔

Alam Lohar – ( Classic ) Jugni Punjabi Folk Live @ Pakistan Television

انٹرنیٹ پر ہی تلاش کے دوران ایک عالم لوہار ہی کی آواز میں‌گائی گئی ایک اور جگنی سننے کو ملی۔ یہ جگنی غالبا 1965 میں‌گائی گئی اور اس کے بول کچھ اور تھے ۔ آپ بھی سنئے:


ایک عدد “جگنی ” اس گانے میں‌ناچتی ضرور آئے گی، مگر جس طرح جگنی کا کانسیپٹ مدن گوپال سنگھ بیان کیا ، اِس جگنی کا اس سے کوئی تعلق نہیں نظر آتا۔مگر پھر بھی “ میں‌گاواں‌جگنی سجنا دی ” سے اُسی 1906 والے قصے کا اشارہ ملتا ہے کہ شائد ان دونوں فنکاروں‌نے ملکہ برطانیہ کی تعریف میں‌جگنی گائی ہو؟ اوریہ کہ جگنی محض ایسی صنف کا نام ہے جس میں کسی تعریف بیان کی گئی ہو۔ بہر حال انسانی ارتقاء کی خصوصیت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدل جاتی ہے اوراج کل جو جگنی سننے کو مل رہی ہے وہ اب موجودہ حالات کے حساب سے ٹھیک ہی ہے۔

بہر حال ان سب سے جُدا جو جگنی مجھے پسند آئی وہ یہ والی ہے:
:

مجھے اب بھی علم نہیں‌کہ جگنی کا آغاز کیسے ہوا، مگر یہ ایک دلچسپ انداز ہے گائیکی کا اور اگر اس کو مشرف بہ اسلام کرنے کی بجائے صڑف ایک انداز گائیکی ہی رکھا جائے تو زیادہ اچھا رہے گا۔

آپ کیا کہتے ہیں؟

1 thought on “اے وے میرے پیر دی جگنی جی”

  1. خانِ خاناں

    جگنی کا مطلب ‘آپ بیتی’ ہے۔ مطلب اللہ بسم اللہ میری آپ بیتی۔ جگنی کا دوسرا مفہوم وہی ہے جو ملنگنی کا ہے۔ جگنی جا وڑی بازار کو یوں سمجھیں ملنگنی جا وڑی بازار۔ یہ مشرف بہ اسلام نہیں ہے بلکہ جب مسلم گائے گا تو اپنے دین کا اظہار تو کرے گا۔ اور اس میں کوئی برائی نہیں۔

Comments are closed.

یہ تحریر کاپی نہیں کی جا سکتی ۔ آپ صرف اس تحریر کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔

زحمت کے لئے معافی چاہتا ہوں